1447/112p حضرت سیدنا امام زین العابدین 5شعبان ولادت

حضرت سیدنا امام زین العابدین ؓ وہ آفتابِ استقامت ہیں جنہوں نے کربلا کی تپتی ریت سے لے کر کوفہ و شام کی کٹھن منزلوں تک، اپنے سجدوں کی تابندگی سے حق و صداقت کے چراغوں کو فروزاں رکھا۔ یہی وہ بے مثال کردار ہے جس کی بدولت تاریخِ انسانیت نے انہیں ‘سید الساجدین’ اور ‘زین العابدین’ جیسے جلیل القدر القابات سے نوازا، جو رہتی دنیا تک بندگی کے استعارے بن گئے۔

آپ وہ بندگی کا پیکر ہیں جن کی عبادت پر عرشِ بریں بھی ناز کرتا ہے۔ جب راہِ حق کی صعوبتیں جسم کو تھکا دیتیں، تب بھی آپ کا سرِ نیاز اپنے خالقِ حقیقی کے حضور سراپا سپاس رہتا۔ آپ نے خلوتِ تنہائی میں رب سے ہمکلامی کا وہ سلیقہ سکھایا اور انسانیت کو ‘صحیفۂ سجادیہ’ کی صورت میں معرفت کا وہ گلدستہ عطا کیا، جس کی خوشبو آج بھی تشنہ روحوں کو معطر اور سیراب کرتی ہے۔ آپ کے ان قدسی کلمات نے بندگی کو ایک نیا وقار اور عبادت کو منفرد جاہ و جلال بخشا۔

آج کا یہ مبارک دن ہمیں اس حقیقتِ ازلی کی یاد دلاتا ہے کہ بندگی کا اصل جوہر آزمائشوں کے حصار میں بھی مسکراتے ہوئے، اپنے رب کی رضا کے سامنے سرِ تسلیمِ خم کر دینے میں پوشیدہ ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

1474-100p حضرت سیدنا جنید بغدادی تاریخ 27 رجب المرجب