Posts

Showing posts from January, 2026

1447/117pمیم کاعمل

Image
فوائد: اس عمل کے بنیادی فوائد میں رزق کی فراوانی، غیبی خزانوں کا کھلنا، اور مخلوقِ خدا کے دلوں میں اپنی محبت اور عزت پیدا کرنا شامل ہے۔ روحانی طور پر یہ عمل 'کشف' یعنی چھپی ہوئی باتوں کے ادراک اور باطنی بصیرت کے حصول کے لیے انتہائی موثر مانا جاتا ہے۔ لکھنے اور پڑھنے کا طریقہ (سادہ عوام کے لیے): لکھنے کا طریقہ: ایک صاف سفید کاغذ پر زعفران یا عرقِ گلاب ملی سیاہی سے نقش بنائیں. نقش کے نیچے اپنا مقصد (مثلاً رزق میں برکت یا تسخیرِ خلق) لکھیں۔ اسے لکھنے کے لیے بہترین وقت جمعہ کی صبح یا نمازِ فجر کے بعد کا ہے۔ لکھنے کے دوران باوضو ہوں اور پاس کوئی اچھی خوشبو (لوبان یا بخور) جلائیں۔ پڑھنے کا طریقہ: نقش تیار کرنے کے بعد یا روزانہ کسی بھی نماز کے بعد اس عزیمت کو 41 مرتبہ یا 100 مرتبہ پڑھنے کا معمول بنائیں۔ پڑھنے کے دوران اپنا رخ قبلہ کی طرف رکھیں اور تصور کریں کہ اس حرف کی روحانیت آپ کے مقصد میں مدد کر رہی ہے۔ عزیمت : بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ. مَلَكْنَا عَلَكْنَا اَللّٰهُمَّ مَلِّكْنَا مِنْ مَلَائِكَتِكَ عَلَكْنَا بِهٖ، يَا مَالِكَ يَوْمِ الدِّيْنِ، يَا ذَا الْج...

1447/118pولادت حضرت سیدنا علی اکبر

Image
آج ظہور ہے گلشنِ حسینی کے  اس پیکرِ نور کا جو جمالِ محمدیﷺ اور جلالِ حیدری ؓ کا حسین سنگم ہے۔ حضرت سیدنا علی اکبر ؓ محض ایک جواں سال مجاہد نہیں، بلکہ سیرتِ مصطفیٰﷺ کا وہ کامل آئینہ تھے جس میں اصحابِ رسولﷺ عکسِ رسالت کا دیدار کیا کرتے تھے۔ آپ کی شخصیت “خَلقاً، خُلقاً اور مَنطقاً” اپنے جدِ امجد کی وہ اکمل تصویر تھی جس نے نبوت کے اوصاف کو امامت کے آنگن میں زندہ کر دیا۔ دشتِ کربلا میں بلند ہونے والی آپ کی اذانِ حق محض نماز کی پکار نہ تھی، بلکہ باطل کے ایوانوں میں وہ حیدری للکار تھی جس نے ایثار و استقامت کے معنی بدل دیے۔ تشنہ لبی میں صبر و رضا کی جو تاریخ آپ نے رقم کی، وہ رہتی دنیا کے نوجوانوں کے لیے حریت اور غیرت کا ابدی منشور بن چکی ہے۔ اس مبارک ساعت پر، ہم اس عظیم المرتبت شہزادے کی بارگاہ میں نذرانہِ عقیدت پیش کرتے ہیں جن کا کردار حق کی خاطر سب کچھ قربان کر دینے والوں کے لیے ہمیشہ مینارِ نور رہے گا۔

1447/116p فوائد میں رزق

Image
فوائد: اس عمل کے بنیادی فوائد میں رزق کی فراوانی، غیبی خزانوں کا کھلنا، اور مخلوقِ خدا کے دلوں میں اپنی محبت اور عزت پیدا کرنا شامل ہے۔ روحانی طور پر یہ عمل 'کشف' یعنی چھپی ہوئی باتوں کے ادراک اور باطنی بصیرت کے حصول کے لیے انتہائی موثر مانا جاتا ہے۔ لکھنے اور پڑھنے کا طریقہ (سادہ عوام کے لیے): لکھنے کا طریقہ: ایک صاف سفید کاغذ پر زعفران یا عرقِ گلاب ملی سیاہی سے نقش بنائیں. نقش کے نیچے اپنا مقصد (مثلاً رزق میں برکت یا تسخیرِ خلق) لکھیں۔ اسے لکھنے کے لیے بہترین وقت جمعہ کی صبح یا نمازِ فجر کے بعد کا ہے۔ لکھنے کے دوران باوضو ہوں اور پاس کوئی اچھی خوشبو (لوبان یا بخور) جلائیں۔ پڑھنے کا طریقہ: نقش تیار کرنے کے بعد یا روزانہ کسی بھی نماز کے بعد اس عزیمت کو 41 مرتبہ یا 100 مرتبہ پڑھنے کا معمول بنائیں۔ پڑھنے کے دوران اپنا رخ قبلہ کی طرف رکھیں اور تصور کریں کہ اس حرف کی روحانیت آپ کے مقصد میں مدد کر رہی ہے۔ عزیمت : بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ. مَلَكْنَا عَلَكْنَا اَللّٰهُمَّ مَلِّكْنَا مِنْ مَلَائِكَتِكَ عَلَكْنَا بِهٖ، يَا مَالِكَ يَوْمِ الدِّيْنِ، يَا ذَا الْج...

1447/113 حضرت مولا عباس کی ولادت 4شعبان

Image
آج وفا کی معراج کا دن ہے جب حضرت مولا علی المرتضیٰ ؓ کی تہجد میں مانگی گئی دعاؤں کو عباس ؓ کی صورت میں ثمر ملا۔ آج اس قمرِ بنی ہاشم ؓ کا ظہور ہے جس کی جبینِ نیاز سے نکلنے والے نور نے وفا کے مفہوم کو ابد تک کے لیے روشن کر دیا۔ مبارک ہو! کہ آج وہ شہسوار آیا ہے جس نے بازو کٹوا کر بھی پرچمِ حق کو سرنگوں ہونے نہ دیا۔ آج اس سخی کا دن ہے جسے زمانہ "بابُ الحوائج" کہتا ہے، جس کے در سے کوئی خالی ہاتھ نہیں پلٹتا۔ تمام محبانِ اہلِ بیت ؓ کو، حق و صداقت کے علمبرداروں کو اور وفا کے پیاسوں کو سلطانِ کربلا کے دستِ راست، غازی عباس علمدار ؓ کا جشنِ ولادت دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارک ہو! 🤲 اعمال کا ہدیہ:- ایک بار سورۃ فاتحہ تین بار سورۃ اخلاص اور اول و آخر تین مرتبہ درود پاک پڑھ کر اس عظیم ہستی کی بارگاہ میں ہدیہ عقیدت پیش کر دیں۔

1447/113pरूहानी मोअल्लिज इलाज बिल्कुर आन कारी मोहम्मद आरफिन

Image

1447/112p حضرت سیدنا امام زین العابدین 5شعبان ولادت

Image
حضرت سیدنا امام زین العابدین ؓ وہ آفتابِ استقامت ہیں جنہوں نے کربلا کی تپتی ریت سے لے کر کوفہ و شام کی کٹھن منزلوں تک، اپنے سجدوں کی تابندگی سے حق و صداقت کے چراغوں کو فروزاں رکھا۔ یہی وہ بے مثال کردار ہے جس کی بدولت تاریخِ انسانیت نے انہیں ‘سید الساجدین’ اور ‘زین العابدین’ جیسے جلیل القدر القابات سے نوازا، جو رہتی دنیا تک بندگی کے استعارے بن گئے۔ آپ وہ بندگی کا پیکر ہیں جن کی عبادت پر عرشِ بریں بھی ناز کرتا ہے۔ جب راہِ حق کی صعوبتیں جسم کو تھکا دیتیں، تب بھی آپ کا سرِ نیاز اپنے خالقِ حقیقی کے حضور سراپا سپاس رہتا۔ آپ نے خلوتِ تنہائی میں رب سے ہمکلامی کا وہ سلیقہ سکھایا اور انسانیت کو ‘صحیفۂ سجادیہ’ کی صورت میں معرفت کا وہ گلدستہ عطا کیا، جس کی خوشبو آج بھی تشنہ روحوں کو معطر اور سیراب کرتی ہے۔ آپ کے ان قدسی کلمات نے بندگی کو ایک نیا وقار اور عبادت کو منفرد جاہ و جلال بخشا۔ آج کا یہ مبارک دن ہمیں اس حقیقتِ ازلی کی یاد دلاتا ہے کہ بندگی کا اصل جوہر آزمائشوں کے حصار میں بھی مسکراتے ہوئے، اپنے رب کی رضا کے سامنے سرِ تسلیمِ خم کر دینے میں پوشیدہ ہے۔

1447/110p جناتوں کے خط سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جناتوں کے نام یہ خط لکھا تھا گھر کی حفاظت

Image
اگر کوئی شخص اس مکتوب مبارک کو لکھ کر اپنے گھر میں لگا دے تو اللہ کے حکم سے وہ گھر ہر قسم کے شریر جنات، نظرِ بد اور شیطانی اثرات سے محفوظ ہو جاتا ہے اور گھر میں سکون و برکت نازل ہوتی ہے؛ اسے لکھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ باوضو ہو کر صاف کاغذ پر قلم سے یہ مکتوب لکھ لیں یا کسی مستند جگہ سے حاصل کر کے گھر کی کسی اونچی اور پاک جگہ پر آویزاں کر دیں ۔ اس کا پسِ منظر یہ ہے کہ جب حضرت ابودجانہ رضی اللہ عنہ نے رات کو اپنے گھر میں ڈراؤنی آوازیں، بجلی جیسی چمک اور ایک سیاہ سایہ دیکھا جو ان پر آگ کے انگارے پھینک رہا تھا، تو نبی کریم ﷺ کے حکم پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ مکتوب تحریر فرمایا ۔ حضرت ابودجانہ رضی اللہ عنہ نے جب اسے اپنے سرہانے رکھا تو جنات رات بھر یہ کہہ کر روتے رہے کہ “اے ابودجانہ! اس تحریر نے ہمیں جلا دیا ہے، اسے ہٹا لو تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ نہ صرف تمہارے گھر بلکہ تمہارے پڑوس میں بھی کبھی نہیں آئیں گے” ۔ یہ مکتوبِ مبارک درحقیقت جنات کے شر سے بچاؤ کے لیے ایک طاقتور حفاظتی ڈھال اور تہدیدی نامہ ہے ۔(دلائل النبوۃ—حدیث نمبر 3108)  ترجمہ : بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یہ مکتوب...

1447/109 سورہ فاتحہ کی فضیلت

★---سورة الفاتحه کے فضائل وفوائد--★ --★عارفان خدافرماتے ہیں سورة فاتحه میں ایک ہزارخاصیتیں ہیں ظاهری اورایک یزارباطنی جس مرض کے واسطے اس کوپڑھاجائے فائده ہوگا. --★سورة الفاتحه ہردکھ کی دواہے. --★ہرمشکل کے حل کے لیے اکتالیس(41) باروردکریں. ---★کامیابی کے لیے گیاره بارپڑھ کرکام شروع کریں. ---★21مرتبه سورة فاتحه پڑھ کرمریض پردم کریں ان شاءالله العزیزشفاہوجائے گی. ---★زوجین کے درمیان محبت کے لیے اکیس بارپڑھ کرچینی پردم کرکے استعمال کریں. ---★تسخیرکے لیے فجرکی سنت اورفرض کے درمیان اکتالیس(41) بار وردکریں اورخشوع وخضوع سےدعاکریں. ---★حضورصلی الله تعالی علیه وسلم نے فرمایاہے جب میں بچھونے پرلیٹ کرسوره فاتحه اوراخلاص کوپڑھ لیتاهوں توہرچیزسے امن وامان میں ہوجاتاهوں. ٭٭★روزی کی فراوانی وغیره ★٭٭ مسند دارمی میں ہے که سومرتبه سورة فاتحه پڑھ کر جودعامانگی جائے اس کو الله تعالی قبول فرماتاهے. ان شاء الله تعالی ہر مشکل کے حل کے لئے یه عمل کافی رہےگی. ---★ایک فرشته نے آسمان سے نازل ہوکرحضورصلی الله علیه وآله وسلم کی بارگاه میں سلام عرض کیااوردوایسے نوروں کی بشارت دی جوحضور سے پھلاکسی نبی کوعطانه ہوئے ...

1447/98p طلسمی نقش

Image

1447/110 حضرت امام حسین کی یوم ولادت

Image

1447/107p سورہ قریش پڑھنے کا نصاب

Image

1447/106p دکان کے خیر برکت کے لیے

Image
رزق میں برکت اور فراخی کے لیے روحانی عمل طریقہ کار: وقت: جمعہ کے مبارک دن، نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد۔ تحریر: سفید کاغذ پر نیلی سیاہی سے یہ نقش (جو آپ کے پاس ہے) تیار کریں۔ ترکیب: نقش کے اندر مقناطیس کا ایک چھوٹا ٹکڑا یا اس کا سفوف (پاؤڈر) رکھ کر اسے سبز کپڑے میں سی لیں یا لپیٹ لیں۔ جگہ: اسے اپنی دکان، کاروبار کی جگہ، پرس یا بٹوے میں رکھ لیں۔ فضیلت و برکات: ان شاء اللہ، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے غیب سے رزق کے اسباب پیدا ہوں گے اور کبھی مالی تنگی یا دستِ نگری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ لازمی شرط: اس عمل کی برکت برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر ہفتے حسبِ توفیق صدقہ و خیرات کا اہتمام کریں یا کسی ضرورت مند کو کھانا کھلائیں۔ روزانہ کا وظیفہ (مداومت کے لیے) اس عمل کی تاثیر کو جاری رکھنے کے لیے درج ذیل قرآنی آیت (سورہ الطلاق) کا روزانہ 21 مرتبہ ورد کریں: آیتِ مبارکہ: وَمَنْ يَتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا، وَّيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ، وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ، اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ، قَدْ جَعَلَ اللّٰه لِكُلِّ شَيْءٍ قَد...

1447/105p سورہ نصر کا نقش

Image
سورہ النصر کا یہ مبارک نقش فتوحات، تسخیرِ خلائق، دشمنوں پر غلبہ اور مشکل ترین امور میں کامیابی کے حصول کے لیے بے حد مؤثر مانا جاتا ہے؛ اس کو لکھنے کا سادہ طریقہ یہ ہے کہ کسی بھی جمعہ کے دن طلوعِ آفتاب کے بعد پہلی ساعت میں باوضو ہو کر، جائے نماز پر قبلہ رو بیٹھ کر سفید کاغذ پر کالی سیاہی یا زعفران سے اسے تحریر کریں اور نقش کے اوپر ‘786’ (بسم اللہ) لازمی لکھیں۔ لکھنے کے بعد اس پر عطر لگائیں اور اسے کسی پاک صاف کپڑے یا چمڑے میں سی کر (تعویذ بنا کر) اپنے سیدھے بازو پر باندھ لیں یا جیب/پرس میں محفوظ کر لیں، انشاء اللہ اس کی برکت سے لوگوں کے دلوں میں آپ کی محبت پیدا ہوگی اور ہر جائز مقصد میں غیبی نصرت حاصل ہوگی۔

1447/104p امام محمد بن ادریس شافعی رحمتہ اللہ علیہ

Image
امام محمد بن ادریس الشافعیؒ نے اسلامی فکر و دانش کو ایک نئی جلا بخشی۔ آپ کی شخصیت علم اور فصاحت  کا وہ نادر نمونہ تھی جہاں استدلال کی قوت اور بیان کی نزاکت باہم ہم آغوش نظر آتی ہیں۔ امام شافعیؒ محض ایک فقیہ ہی نہیں، بلکہ عربی زبان و ادب کے شہسوار تھے۔ آپ نے اپنی بصیرت سے منقولات اور معقولات کے درمیان ایسا توازن پیدا کیا جس نے رہتی دنیا تک کے لیے اصولِ فقہ کی بنیادیں استوار کر دیں۔ آپ کا علم ایک ایسا بحرِ بے کنار ہے جس کی موجیں تقویٰ سے عبارت ہیں اور جس کا ساحل رشد و ہدایت کا ضامن ہے۔ امام شافعیؒ کی علمی وجاہت نے نہ صرف کلامِ الٰہی اور سنتِ نبوی کے فہم کو عام کیا بلکہ عربی ادب کو وہ وقار عطا کیا جو تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ تابندہ رہے گا۔ نوٹ: آپ کا وصال رجب کی آخری شب میں ہوا (یعنی 29 یا 30 رجب)۔ بعض کے نزدیک آپ کا وصال 4 رجب ہے۔

1447-103 रूहानी मोअल्लिज इलाज बिल्कुर आन कारी मोहम्मद आरफिन

Image

1447/102p रूहानी मोअल्लिज इलाज बिल्कुर आन कारी मोहम्मद आरफिन

Image

1447/101p پینے والا نفس شفائی امراض کے لیے روحانیت کے لیے

Image
یپینے والا شفائی نقش اللہ کے فضل سے شفا، کمزوری اور روحانی تقویت کے لیے مفید ہے؛ 7 دن تک روزانہ صبح نہار منہ ایک بار استعمال کریں: نقش کو زعفران/خالص زرد رنگ سے سفید صاف کاغذ یا چینی کی پلیٹ پر لکھیں، پھر اسے ایک گلاس صاف پانی میں گھول کر پی لیں، اور ساتوں دن یہی عمل مسلسل جاری رکھیں۔ (پا اجاززت ڈاکٹر عبدالواجد شاذلی )

1474-100p حضرت سیدنا جنید بغدادی تاریخ 27 رجب المرجب

Image
ہمارے سلسلے اور شجرے کے عظیم بزرگ “حضرت سیدنا جنید بغدادیؒ”،  تصوف کے وہ تاجدار اور امام ہیں جن کی ذاتِ گرامی شریعت اور طریقت کے حسین سنگم کا استعارہ ہے۔ آپؒ کے نزدیک تصوف کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے؛ آپؒ کا فرمان تھا کہ جو راستہ سنتِ نبوی ﷺ سے الگ ہو، وہ منزل تک نہیں پہنچا سکتا۔ آپؒ نے یہ تصور واضح کیا کہ اصل کرامت ہوا میں اڑنا نہیں، بلکہ استقامت (یعنی اللہ کے احکامات پر سختی سے قائم رہنا) ہے۔ آپؒ نے روحانیت کو ‘ہوش’ اور ‘خرد’ کے ساتھ جوڑا، تاکہ طالبِ حق گمراہی سے بچ کر بندگی کا اصل سلیقہ سیکھ سکے۔

1474/99p فاتح خیبر تاریخ اسلام

Image
۲۴ رجب المرجب تاریخِ اسلام کا وہ درخشندہ دن ہے جب حق و باطل کے معرکے میں شجاعتِ حیدری نے خیبر کے ناقابلِ تسخیر حصار کو پاش پاش کر کے پرچمِ اسلام کی سربلندی کا اعلان کیا۔ فاتحِ خیبر، مولا علی ؓ کے دستِ مبارک سے بابِ خیبر کا اکھڑنا محض ایک قلعے کی فتح نہ تھی، بلکہ یہ باطل کے غرور کی شکست اور رہتی دنیا تک کے لیے عزم و استقلال کی ایک ایسی مثال تھی جس نے ثابت کر دیا کہ جب ایمان کامل ہو تو ظاہری قوت اور آہنی دیواریں اللہ کے شیروں کا راستہ نہیں روک سکتیں۔ آج کا یہ دن ہمیں اس عظیم عسکری و روحانی فتح کی یاد دلاتا ہے جو عدل و انصاف کے قیام اور کفر کے استبداد کے خاتمے کا سنگِ میل ثابت ہوئی۔ 🤲۔ فاتحِ خیبر حضرت علی ؓ اور تمام اصحاب رسول ؓ بالخصوص شہدائے خیبر کی مقدس ارواح کو خوب ایصال ثواب کا تحفہ پیش کریں جنہوں نے آپﷺ کی معیت میں حق کی خاطر جنگ لڑی۔

1447_98 ہر حاجت کے لیے طلسم والا نقش

Image

1447/97احترامِ اہلبیت رضی اللہ عنہم اور حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہجُنید بَغْدادی رحمۃ اللہ علیہ (شروع میں) خلیفہ بغداد کے درباری پہلوان اور پوری مُملکت کی شان تھے ۔ ایک دن دربار لگا ہوا تھا کہ چوبدار نے اطلاع دی کہ صحن کے دروازے پر صبح سے ایک لاغَر و نیم جان شخص برابر اِصرار کررہا ہے کہ میرا چیلنج جُنید رحمۃ اللہ علیہ تک پہنچا دو ، میں اس سے کُشتی لڑنا چاہتا ہوں ۔ لوگوں کو بڑی حیرت ہوئی مگر خلیفہ نے درباریوں سے باہمی مشورہ کے بعد کُشتی کے مقابلے کیلئے تاریخ و جگہ مُتَعَیَّن کردی ۔انوکھی کشتی مقابلے کی تاریخ آتے ہی بَغداد کا سب سے وسیع میدان لاکھوں تماشائیوں سے کھچا کھچ بھر گیا ۔ اعلان ہوتے ہی حضرت جُنید بَغْدادی رحمۃ اللہ علیہ تیار ہوکر اَکھاڑے میں اُتر گئے ۔ وہ اجنبی بھی کمر کَس کر ایک کنارے کھڑا ہوگیا ۔ لاکھوں تماشائیوں کیلئے یہ بڑا ہی حیرت انگیز منظر تھا ،ایک طرف شُہرت یافتہ پہلوان اور دوسری طرف کمزور و نَحیف شخص ۔حضرت جُنید رحمۃ اللہ علیہ نے جیسے ہی خَم ٹھونک کر زور آزمائی کیلئے پنجہ بڑھایا تو اجنبی شخص نے دبی زبان سے کہا ۔ کان قریب لائیے مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے ۔نہ جانے اس آواز میں کیا سِحر تھا کہ سنتے ہی حضرت جُنید رحمۃ اللہ علیہ پر ایک سکتہ طاری ہوگیا ۔ کان قریب کرتے ہوئے کہا ، فرمائیے !اجنبی کی آواز گلوگیر ہوگئی ۔ بڑی مشکل سے اتنی بات منہ سے نکل سکی ۔ جُنید ! میں کوئی پہلوان نہیں ہوں ۔ زمانے کا ستایا ہوا ایک آلِ رسول ہوں ، سَیِّدہ فاطِمہ رضی اللہ عنہا کا ایک چھوٹا سا کنبہ کئی ہفتے سے جنگل میں پڑا ہوا فاقوں سے نیم جان ہے ۔ چھوٹے چھوٹے بچے بھوک کی شدت سے بے حال ہوگئے ہیں ۔ ہر روز صبح کو یہ کہہ کر شہر آتا ہوں کہ شام تک کوئی انتظام کر کے واپس لوٹوں گا لیکن خاندانی غیر ت کسی کے آگے منہ نہیں کھولنے دیتی ۔ شرْم سے بھیک مانگنے کیلئے ہاتھ نہیں اٹھتے ۔ میں نے تمہیں صرف اس امید پر چیلنج دیا تھا کہ آلِ رسول کی جو عقیدت تمہارے دل میں ہے ۔ آج اس کی آبرو رکھ لو۔ وعدہ کرتا ہوں کہ کل میدانِ قِیامت میں ناناجان صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے کہہ کر تمہارے سر پر فتح کی دستار بندھواؤں گا ۔اجنبی شخص کے یہ چند جملے نِشتَرکی طرح حضرتِ جُنید رحمۃ اللہ علیہ کے جِگَر میں پَیوست ہوگئے پلکیں آنسوؤں کے طوفان سے بوجَھل ہوگئیں ، عالم گیر شُہرت و نامُوس کی پامالی کیلئے دل کی پیشکش میں ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں ہوئی ۔بڑی مشکل سے حضرتِ جُنید رحمۃ اللہ علیہ نے جذبات کی طُغیانی پر قابو حاصل کرتے ہوئے کہا کِشْوَرِ عقیدت کے تاجدار ! میری عزت و نامُوس کا اس سے بہترین مَصْرَف اور کیا ہوسکتا ہے کہ اسے تمہارے قدموں کی اُڑتی ہوئی خاک پر نثار کر دوں ۔اتنا کہنے کے بعد حضرتِ جُنید رحمۃ اللہ علیہ خَم ٹھونک کر للکارتے ہوئے آگے بڑھے اور سچ مُچ کُشتی لڑنے کے انداز میں تھوڑی دیر پینتر ا بدلتے رہے ۔ لیکن دوسرے ہی لمحے میں حضرتِ جُنید رحمۃ اللہ علیہ چاروں شانے چِت تھے اور سینے پر سَیِّدہ فاطِمہ زَہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ایک نحیف و ناتُواں شہزادہ فتح کا پرچم لہرا رہا تھا ۔ایک لمحے کیلئے سارے مجمع پر سکتے کی سی کیفیت طاری ہوگئی ۔ حیرت کا طِلِسْم ٹوٹتے ہی مجمع نے نحیف و ناتُواں سَیِّد کو اٹھا اٹھا لیا ۔ اور ہر طرف سے انعام و اِکرام کی بارش ہورہی تھی۔ رات ہونے سے پہلے پہلے ایک گمنام سَیِّد خلعت و انعامات کا بیش بہا ذخیرہ لیکر جنگل میں اپنی پناہ گاہ کی طرف لوٹ چکا تھا ۔حضرتِ جُنید رحمۃ اللہ علیہ اکھاڑے میں چت لیٹے ہوئے تھے ۔ ا ب کسی کو کوئی ہمدردی ان کی ذات سے نہیں رہ گئی تھی ۔ آج کی شکست کی ذلتوں کا سُرُور ان کی روح پر ایک خمار کی طرح چھا گیا تھا ۔عشاء کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضرتِ جُنید رحمۃ اللہ علیہ جب اپنے بستر پر لیٹے تو بار بار کان میں یہ الفاظ گونج رہے تھے ۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ کل قِیامت میں نانا جان سے کہہ کر تمہارے سر پر فتح کی دستار بندھواؤں گا ۔دستارِ ولایت کیا سَچ مُچ ایسا ہوسکتا ہے ؟ کیا میری قسمت کا ستارہ یک بیک اتنی بلندی پر پہنچ جائیگا کہ سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے نورانی ہاتھوں کی بَرَکتیں میری پیشانی کو چُھولیں ۔ اپنی طرف دیکھتا ہوں تو کسی طرح اپنے آپ کو اس اعزاز کے قابل نہیں پاتا ۔ آہ ! اب جب تک زندہ رہوں گا قِیامت کیلئے ایک ایک دن گننا پڑیگا ۔یہ سوچتے سوچتے حضرتِ جُنید رحمۃ اللہ علیہ کی جیسے ہی آنکھ لگی ۔ سوئی ہوئی قسمت انگڑائی لے کر جاگ اٹھی ۔ سامنے شہدسے بھی میٹھے میٹھے آقا مسکَراتے ہوئے تشریف لے آئے ۔ لب ہائے مبارَکہ کو جُنبِش ہوئی ، رَحمت کے پھول جھڑنے لگے ۔ الفاظ کچھ یوں ترتیب پائے : جُنید اٹھو ، قِیامت سے پہلے اپنے نصیبے کی سرفرازیوں کا نظارہ کرلو ۔ نبی زادوں کے نامُوس کیلئے شکست کی ذلتوں کا انعام قِیامت تک قرض نہیں رکھا جائیگا۔سر اٹھاؤ ، تمہارے لئے فتح و کرامت کی دَستار لیکر آیاہوں ۔ آج سے تمہیں عرفان و تَقَرُّب کی سب سے اونچی بِساط پر فائز کیا گیا ۔ بارگاہ ِیَزدانی سے گروہِ اولیاء کی سَروَرِی کا اعزاز تمہیں مبارَک ہو ۔ان کَلِمات سے سرفراز فرمانے کے بعد سرکارِ مدینہ ، سرورِ قلب و سینہ ، فیض گنجینہ ، صاحبِ معطر پسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے حضرت جُنید بَغْدادی رحمۃ اللہ علیہ کو سینے سے لگالیا۔ اس عالمِ کیف بار میں اپنے شہزادوں کے جاں نثار پر وانے کو کیا عطافرمایا اس کی تفصیل نہیں معلوم ہوسکی ۔ جاننے والے بس اتناہی جان سکے کہ صبح کو جب حضرتِ جُنید رحمۃ اللہ علیہ کی آنکھ کھلی تو پیشانی کی موجوں میں نور کی کرن لہرارہی تھی ۔ سارے بغداد میں آپ کی ولایت کی دھوم مچ چکی تھی ، خواب کی بات بادِصبا نے گھر گھر پہنچادی تھی ، کل کی شام جو پائے حِقارت سے ٹھکرا دیا گیا تھا آج صبح کو اس کی راہ گزر میں پلکیں بچھی جارہیں تھیں ۔ ایک ہی رات میں سارا عالم زِیر وزَبر ہوگیا تھا ۔ طلوعِ سَحر سے پہلے ہی حضرتِ جُنید بَغْدادی رحمۃ اللہ علیہ کے دروازے پر درویشوں کی بھیڑ جمع ہوگئی تھی ۔ جونہی آپ رحمۃ اللہ علیہ باہر تشریف لائے خراج عقیدت کیلئے ہزاروں گردنیں جھک گئیں ۔ خلیفہ بغداد نے اپنے سر کا تاج اتار کر قدموں میں ڈال دیا ۔ سارا شہر حیرت و پشیمانی کے عالم میں سرجھکائے کھڑا تھا ۔ حضرت جُنید بَغْدادی رحمۃ اللہ علیہ نے مسکَراتے ہوئے ایک بار نظر اٹھائی اورسامنے موجود عاشقانِ رسول کے ہیبت سے لرزتے ہوئے دلوں کو سُکون بخش دیا ۔ پاس ہی کسی گوشے سے آواز آئی گروہِ اَولیاء رحمہم اللہ کی سَروَری کا اعزاز مبارَک ہو ، منہ پھیر کر دیکھا تو وہی نَحیف و نزار آلِ رسول فرطِ خوشی سے مسکَرارہا تھا ۔ آلِ رسول کے اَدَب کی بَرَکت نے ایک پہلوان کولمحوں میں آسمانِ ولایت کا چاند بنادیا ۔ ساری فضا سَیِّدالطائفہ کی مبارَک باد سے گونج اٹھی۔واللہ اعلم بالصواب ۔ اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ کہانی یا تحریر وغیره اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو دوستو ہماری سپورٹ کے لیے پوسٹ اچھی لگے تو فالو ضرور کیا کریں بہت شکریہ۔❤️جزاک اللہ خیرا کثیرا۔ ۔ (زلف زنجیر مع لالہ زار ، انعام شکست ، ص ۶۲ تا ۷۲،)،(محزن اخلاق صصفحہ نمبر 441

Image
احترامِ اہلبیت رضی اللہ عنہم اور حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ جُنید بَغْدادی رحمۃ اللہ علیہ (شروع میں) خلیفہ بغداد کے درباری پہلوان اور پوری مُملکت کی شان تھے ۔ ایک دن دربار لگا ہوا تھا کہ چوبدار نے اطلاع دی کہ صحن کے دروازے پر صبح سے ایک لاغَر و نیم جان شخص برابر اِصرار کررہا ہے کہ میرا چیلنج جُنید رحمۃ اللہ علیہ تک پہنچا دو ، میں اس سے کُشتی لڑنا چاہتا ہوں ۔ لوگوں کو بڑی حیرت ہوئی مگر خلیفہ نے درباریوں سے باہمی مشورہ کے بعد کُشتی کے مقابلے کیلئے تاریخ و جگہ مُتَعَیَّن کردی ۔ انوکھی کشتی مقابلے کی تاریخ آتے ہی بَغداد کا سب سے وسیع میدان لاکھوں تماشائیوں سے کھچا کھچ بھر گیا ۔  اعلان ہوتے ہی حضرت جُنید بَغْدادی رحمۃ اللہ علیہ تیار ہوکر اَکھاڑے میں اُتر گئے ۔ وہ اجنبی بھی کمر کَس کر ایک کنارے کھڑا ہوگیا ۔ لاکھوں تماشائیوں کیلئے یہ بڑا ہی حیرت انگیز منظر تھا ،ایک طرف شُہرت یافتہ پہلوان اور دوسری طرف کمزور و نَحیف شخص ۔ حضرت جُنید رحمۃ اللہ علیہ نے جیسے ہی خَم ٹھونک کر زور آزمائی کیلئے پنجہ بڑھایا تو اجنبی شخص نے دبی زبان سے کہا ۔  کان قریب لائیے مجھے آپ سے کچھ کہنا ...

1447-97pیہ نیاز اس عظیم الشان نعمت کا شکرانہ ہے جب سن 122 ہجری، 22 رجب المرجب کی مبارک شب، وقتِ تہجد اللہ رب العزت نے سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کو ولایت کے اعلیٰ ترین درجے یعنی مقامِ غوثیتِ کبریٰ پر فائز فرمایا۔ اس بے مثال ربانی عطا پر اظہارِ تشکر کے طور پر آپ نے صبحِ صادق دودھ اور چاول سے تیار کردہ طعام (کھیر) بطورِ نیاز تقسیم کرنے کا اہتمام فرمایا۔ آپ نے مٹی کے پیالوں میں نیاز سجا کر احباب کو مدعو کیا اور فرمایا:“آج کی شب ربِ کریم نے مجھے مقامِ غوثیتِ کبریٰ عطا فرمایا ہے، اسی نعمت کے شکرانے اور تبرک کے طور پر یہ نیاز پیشِ خدمت ہے۔”جب آپ کے صاحبزادے سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ اور دیگر رفقاء نے اس نیاز کی فضیلت دریافت کی، تو آپ نے ارشاد فرمایا:“ربِ کعبہ کی قسم! جس طرح میں اس نعمت پر شکر گزار ہوں، جو شخص بھی اس تاریخ میں اللہ کا شکر ادا کرے گا اور ہمارے وسیلے سے بارگاہِ الہٰی میں دستِ دعا بلند کرے گا، اللہ رب العزت اس کی مرادیں ضرور پوری فرمائے گا اور اسے مایوس نہیں لوٹائے گا، کیونکہ اللہ اپنے شکر گزار بندوں پر فضل و کرم کی انتہا کر دیتا ہے۔”

Image
یہ نیاز اس عظیم الشان نعمت کا شکرانہ ہے جب سن 122 ہجری، 22 رجب المرجب کی مبارک شب، وقتِ تہجد اللہ رب العزت نے سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کو ولایت کے اعلیٰ ترین درجے یعنی مقامِ غوثیتِ کبریٰ پر فائز فرمایا۔ اس بے مثال ربانی عطا پر اظہارِ تشکر کے طور پر آپ نے صبحِ صادق دودھ اور چاول سے تیار کردہ طعام (کھیر) بطورِ نیاز تقسیم کرنے کا اہتمام فرمایا۔ آپ نے مٹی کے پیالوں میں نیاز سجا کر احباب کو مدعو کیا اور فرمایا: “آج کی شب ربِ کریم نے مجھے مقامِ غوثیتِ کبریٰ عطا فرمایا ہے، اسی نعمت کے شکرانے اور تبرک کے طور پر یہ نیاز پیشِ خدمت ہے۔” جب آپ کے صاحبزادے سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ اور دیگر رفقاء نے اس نیاز کی فضیلت دریافت کی، تو آپ نے ارشاد فرمایا: “ربِ کعبہ کی قسم! جس طرح میں اس نعمت پر شکر گزار ہوں، جو شخص بھی اس تاریخ میں اللہ کا شکر ادا کرے گا اور ہمارے وسیلے سے بارگاہِ الہٰی میں دستِ دعا بلند کرے گا، اللہ رب العزت اس کی مرادیں ضرور پوری فرمائے گا اور اسے مایوس نہیں لوٹائے گا، کیونکہ اللہ اپنے شکر گزار بندوں پر فضل و کرم کی انتہا کر دیتا ہے۔”

1447/96سہون شریف (سندھ) کی سر زمین سے اٹھنے والی وہ صدائے حق، جس نے صدیوں سے قلوبِ انسانی کو عشقِ الٰہی اور مودتِ اہلِ بیت کے نور سے منور کر رکھا ہے، یعنی پیکرِ زہد و اتقا حضرت سخی لعل شہباز قلندر ؒ کا یومِ ولادت نہ صرف ایک تاریخی دن ہے بلکہ یہ درویشی، استقامت اور بالائے مصلحت جینے والے قلندرانہ شعور کی تجدید کا نام ہے۔اس مبارک موقع پر ہماری دعا ہے کہ ہم سب کے دلوں میں وہی تڑپ پیدا ہو جو اس مرشدِ برحق کا خاصہ تھی، اور ہم رنگ و نسل کے امتیازات سے بالا تر ہو کر انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنا سکیں۔

Image

1447/95حضرت امام حسین ؓ کے گلشنِ عصمت کے س سے نازک پھول، سیدہ سکینہ سلام اللہ علیہا کا یومِ ولادت تمام انسانیت کو مبارک ہو۔ امام عالی مقام کی یہ وہ لاڈلی بیٹی ہیں جن کے لیے امام نے خود فرمایا کہ “جس گھر میں سکینہ نہ ہو وہ مجھے بھلا نہیں لگتا”۔آپ صرف ایک بیٹی نہیں بلکہ اس خانوادۂ عصمت و طہارت کی وہ خوشبو ہیں جس نے رہتی دنیا تک پیاس کو تشنگیِ حق کا وقار بخشا اور یتیمی کے دکھ کو صبرِ جمیل کی معراج عطا فرمائی۔ سیدہ سکینہ ؓ نے کربلا کی تپتی ریت سے لے کر شام کے زندان تک، مظلومیت کو وہ زبان عطا کی جو آج بھی ظالم کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر دیتی ہے۔

Image

1447-94pزوجین میں محبت اور ظلم کے خاتمے کے لیے جمعرات یا جمعہ کی صبح سورج نکلنے کے فوراً بعد باوضو ہو کر قبلہ رخ بیٹھیں اور سفید کاغذ پر (ترجیحاً زعفران یا پاک سیاہی سے) نقش لکھیں۔ نقش مکمل کرنے کے بعد اس پر 66 مرتبہ “یا اللہ” اور 11 مرتبہ “سورہ فاتحہ” پڑھ کر دم کریں اور اپنے شریکِ حیات کے دل میں نرمی پیدا ہونے کی دعا مانگیں۔ اس کے بعد اس نقش کو یا تو تکیے کے نیچے رکھ دیں یا پھر اسے پانی میں گھول کر 7 دن تک پلائیں؛ ان شاء اللہ اس کی برکت سے ان کے مزاج میں موجود سختی ختم ہوگی اور آپس میں الفت و محبت پیدا ہوگی۔

Image

1447-93pمولاعلی

Image