بنی اسرائیل میں ایک شخص بڑا ہی نیک، عابد اور زاہد تھا- سب لوگوں میں اس کی بڑی عزت تھی- اس کی نیکی اور پارسائی کا بڑا ہی چرچا تھا- اسی علاقے میں ایک اور شخص تھا- لوگ اسے بہت بُرا انسان سمجھتے تھے- وہ تھا ہی ایسا بد عمل اور بدکردار، کوئی بھی اسے اچھا نہیں سمجھتا تھا- ایک روز اس گناہگار شخص نے دیکھا کہ وہ نیکوکار ایک میدان میں بیٹھا ہوا ہے- ہر طرف تیز دھوپ پھیلی ہوئی ہے مگر اللہ کے اس نیک بندے پر ایک بادل کے ٹکڑے نے سایہ کر رکھا ہے- گناہگار نے یہ منظر دیکھا تو اپنے دل مے بڑا شرمسار ہوا اور یہ خیال پیدا ہوا کہ اس چلچلاتی دھوپ میں، جہاں دور دور تک سایہ نہیں ہے، بادل کے ایک ٹکڑے نے صرف اس لئے اس پر سایہ کر رکھا ہے کہ یہ اللہ کا نیک بندہ ہے، کیوں نا میں بھی اس کے ساتھ بیٹھ جاؤں- کیا عجب کہ اس کی برکت سے اللہ تعالی مجھے بھی بخش سے اور میری خطاؤں کو معاف کر دے- یہ شخص عابد و زاہد کے پاس گیا اور اس کے ساتھ سائے میں بیٹھ گیا- اس کے بیٹھتے ہی اس عابد و زاہد کے دل میں خیال آیا کہ یہ اپنے زمانے کا بدترین گناہگار اور پوری قوم میں بدنام شخص ہے- اس کے ساتھ تو کوئی بھی اٹھنا بیٹھنا پسند نہیں کرتا- یہ می...