حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عمر شریف جب بارہ برس ہوئی تو اس وقت حضرت ابو طالب نے تجارت کی غرض سے ملک شام کا سفر کیا۔ حضرت ابو طالب کو چونکہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے بہت ہی والہانہ محبت تھی اس لیے وہ آپ کو بھی اس سفر میں اپنے ہمراہ لے گئے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اعلان نبوت سے قبل تین بار تجارتی سفر فرمایا۔ دو مرتبہ ملک شام گئے اور ایک بار یمن تشریف لے گئے، یہ ملک شام کا پہلا سفر ہے اس سفر کے دوران بُصریٰ میں بُحیریٰ راہب (عیسائی) کے پاس آپ کا قیام ہوا۔ اس نے توراۃ و انجیل میں بیان کی ہوئی نبی آخر الزماں کی نشانیوں سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دیکھتے ہی پہچان لیا اور بہت عقیدت اور احترام کے ساتھ اس نے آپ کے قافلہ والوں کی دعوت کی اور ابو طالب سے کہا کہ یہ سارے جہان کے سردار اور رب العالمین کے رسول ہیں، جن کو خدا نے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ شجر و حجران کو سجدہ کرتے ہیں اور ابر ان پر سایہ کرتا ہے اور ان کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت ہے۔ اس لئے تمہارے اور ان کے حق میں یہی بہتر ہوگا کہ اب تم ان کو لے کر آ...