Posts
Showing posts from March, 2019
144 p
- Get link
- X
- Other Apps
ثــم الـظـاھـر( ف) ان السنیۃ لاتثبت بالشک بل ھو المتعین والالزم التقول علی النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم بمجرد شک واحتمال ولذا افاد المحقق فی الفتح وتلمیذہ فی الحلیۃ ان الاستنان لایثبت بالحدیث الضعیف حیث حقق فی الفتح ان غسل الجمعۃ مستحب لاسنۃ ثم قال یقاس علیہ باقی الاغتسال (ای غسل العیدین والعرفۃ والاحرام) وانما یتعدی الی الفرع حکم الاصل وھو الاستحباب اما ماروی ابن ماجۃ کان صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم یغتسل یوم العیدین و عن الفاکہ بن سعد الصحابی انہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کان یغتسل یوم عرفۃ ویوم النحر ویوم الفطر فضعیفان قالہ النووی وغیرہ ۱اھ۔ پھر ظاہر ۔ بلکہ متعین ۔ یہ ہے کہ سنیت شک سے ثابت نہیں ہوتی ، ورنہ محض شک و احتمال کی وجہ سے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف زبردستی کسی قول کا انتساب لازم آئے گا۔ اسی لئے حضرت محقق نے فتح القدیر میں اور ان کے تلمیذ سے حلیہ میں افادہ کیا ہے کہ سنیت حدیث ضعیف سے ثابت نہیں ہوتی ۔ اس طرح کہ فتح القدیر میں یہ تحقیق فرمائی ہے کہ غسلِ جمعہ مستحب ہے ، سُنت نہیں ۔ پھر آگے لکھا ہے : اسی پر باقی غسل ( یعنی عیدین ، عرفہ اور احرام کے غسل کا قیا...