Posts

Showing posts from December, 2019

1488p

 صبح دو ٢  شام،وہ بھی ان سے نہ نبھی سنن نسائی شریف میں انس رضی الله تعالٰی عنہ سے مروی حضور سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم حدیثِ معراج مبارك میں ارشاد فرماتے ہیں  ثم ردت الی خمس صلوات ، قال :  فارجع الٰی ربك فاسألہ التخفیف فانہ فرض علٰی بنی اسرائیل صلاتین فماقاموا بھما  [1] یعنی پھر پچاس ٥٠  نمازوں کی پانچ رہیں موسٰی علیہ الصلاۃ والسّلام نے عرض کی کہ حضور پھر جائیں اور اپنے رب سے تخفیف چاہیں کہ اس نے بنی اسرائیل پر دو ٢  نمازیں فرض فرمائی تھیں وہ انہیں بھی بجانہ لائے۔علّامہ زرقانی شرح مواہب میں فرماتے ہیں: ورد ان بنی اسرائیل کلفوا برکعتین بالغداۃ ورکعتین بالعشی۔قیل،ورکعتین عند الزوال،فماقاموا بماکلفوا بہ  [2] ۔ روایت ہے کہ بنی اسرائیل کو دو٢ رکعتیں صبح اور دو رکعتیں رات کو پڑھنے کا مکلف بنایاگیا تھا۔بعض نے کہا ہے کہ دو٢ رکعتیں زوال کی بھی تھیں مگر وہ اس پر کاربند نہ رہ سکے۔(ت) اور امتوں کا حال خدا جانے مگر اتنا ضرور ہے کہ یہ پانچوں اُن میں کسی کو نہ ملیں علماء نے بے خلاف اس کی تصریح فرمائی،مواہب شریف بیان خصائص امت مرحومہ میں لکھا: ومنھا مجموع...

1487p

  ط   کتابُ الصَّلٰوۃ   مسئلہ (٢٤٩) :                                  از اوجین مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ مُلّا یعقوب علی خان         ١٥جمادی الاولٰی ١٣١٠ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز پنجگانہ میں کون سی نماز سب سے پہلے کس نبی نے پڑھی ہے اور اگلے انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام اور اُن کی امتوں پر بھی یہی نماز پنجگانہ فرض تھی یا یہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم کا اور ہمارا خاصہ ہے۔  بیّنوا توجروا ۔ الجواب: الحمدلله وحدہ*والصلوٰۃ والسلام علی من لانبی بعدہ*وعلی اٰلہ وصحبہ المکرمین عندہ۔ الله ہی کیلئے تعریف ہے جو اکیلا ہے اور صلاۃ وسلام اس ہستی پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور اس کے آل واصحاب پر جو اس کے ہاں بہت مکرم ہیں۔(ت) نماز پنجگانہ الله عزّوجل کی وہ نعمتِ عظمٰی ہے کہ اس نے اپنے کرمِ عظیم سے خاص ہم کو عطا فرمائی ہم سے پہلے کسی امت کو   ...

1486p

  ط   کتاب السّیر   مسئلہ ۱:                     از بریلی پرانا شہر محلہ سیلانی مسئولہ مستقیم نداف                             یکم ذی الحجہ  ۱۳۳۸ ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے تین بیٹے ہیں،ایك مرضِ مرگی میں مبتلا ہے،دوسرا بیٹا جوان گھر سنبھالو،اگر وہ نہ ہوں تو زید اور اس کی اہلیہ دوسروں کے محتاج ہوجائیں کیونکہ ضعیفی کا عالم ہے،بڑا بیٹا بعزمِ ہجرت کابل وداع ہوتا ہے کل کی تاریخ میں،اور اس کی بیوی سال بھر کی بیاہی پورے دن امید کے ہیں،اور اس کو بھی چھوڑے جاتا ہے۔جو حکم قرآن و حدیث شریف کا ہو اس میں ہر گزانکار نہیں۔ الجواب: اس صورت میں کابل کی ہجرت اسے جائز نہیں،حدیث میں ہے: کفی بالمرء اثما ان یضیع من یقوت ۔ [1] واﷲتعالٰی اعلم۔ کسی آدمی کے گنہگار ہونے کے لئے اتنا کافی ہے کہ وہ اسے ضائع کردے جس کی روزی اس کے ذمہ تھی۔ واﷲتعالٰی ...

1485pسعودی عرب

Image

1485pسعودی عرب

Image

1484p

Image

1483pبیت الله

Image

1482 غار ثور

Image

1481 p

Image

1480 p

Image

1479 p

Image

1478p

Image

1477p

Image

1476p

Image

1475p

Image

1474p

Image

1473p

Image