1488p
صبح دو ٢ شام،وہ بھی ان سے نہ نبھی سنن نسائی شریف میں انس رضی الله تعالٰی عنہ سے مروی حضور سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم حدیثِ معراج مبارك میں ارشاد فرماتے ہیں ثم ردت الی خمس صلوات ، قال : فارجع الٰی ربك فاسألہ التخفیف فانہ فرض علٰی بنی اسرائیل صلاتین فماقاموا بھما [1] یعنی پھر پچاس ٥٠ نمازوں کی پانچ رہیں موسٰی علیہ الصلاۃ والسّلام نے عرض کی کہ حضور پھر جائیں اور اپنے رب سے تخفیف چاہیں کہ اس نے بنی اسرائیل پر دو ٢ نمازیں فرض فرمائی تھیں وہ انہیں بھی بجانہ لائے۔علّامہ زرقانی شرح مواہب میں فرماتے ہیں: ورد ان بنی اسرائیل کلفوا برکعتین بالغداۃ ورکعتین بالعشی۔قیل،ورکعتین عند الزوال،فماقاموا بماکلفوا بہ [2] ۔ روایت ہے کہ بنی اسرائیل کو دو٢ رکعتیں صبح اور دو رکعتیں رات کو پڑھنے کا مکلف بنایاگیا تھا۔بعض نے کہا ہے کہ دو٢ رکعتیں زوال کی بھی تھیں مگر وہ اس پر کاربند نہ رہ سکے۔(ت) اور امتوں کا حال خدا جانے مگر اتنا ضرور ہے کہ یہ پانچوں اُن میں کسی کو نہ ملیں علماء نے بے خلاف اس کی تصریح فرمائی،مواہب شریف بیان خصائص امت مرحومہ میں لکھا: ومنھا مجموع...