Posts

Showing posts from December, 2025

1474-92p میرسید تاج الدین ہمدانی کا عرس 11رجب المرجب

Image
وادیِ کشمیر میں اسلام کی نویدِ سحر بن کر ابھرنے والے حضرت میر سید تاج الدین ہمدانیؒ وہ عظیم المرتبت شخصیت ہیں، جنہوں نے ہمدان کی رعنائیوں پر فقر و استغنا کو ترجیح دی اور کوہساروں میں وحدانیت کی قندیلیں روشن کیں۔ آپؒ کا شجرہِ نسب بارہ واسطوں سے حضرت امام زین العابدین ؓ تک پہنچتا ہے۔ آپؒ، میر سید علی ہمدانی المعروف شاہ ہمدان ؒ کے برادرِ خورد اور ان کے ورودِ مسعود سے قبل ہی ان کے ایما پر سرزمینِ کشمیر میں اساسِ دین قائم کرنے والے نقیبِ اول تھے۔ آپؒ نے اپنی فکری جلالت اور باطنی بصیرت کے ذریعے خطے کے فکری و سماجی تعطل کو ختم کر کے قلوب کو ضیائے اسلام سے منور کیا۔ آپؒ کی ذاتِ گرامی وہ سنگِ بنیاد ہے جس پر بعد ازاں شاہ ہمددان ؒ نے عظیم روحانی انقلاب کی عمارت استوار کی؛ آپ اس گلشنِ توحید کے وہ جفاکش معمار ہیں جن کے اخلاص نے کشمیر کی مٹی میں ایمان کی ابدی مہک بسا دی۔ زہد و پارسائی کا یہ منبعِ فیض نوہٹہ (سرینگر) میں آسودہِ خاک ہے، جہاں آپؒ کا آستانہِ عالیہ آج بھی تشنگانِ حق کے لیے جائے پناہ ہے۔

1447-91pحضرت سلمان فارسیؓ کی شخصیت تلاشِ حق کی ایک ایسی داستان ہے جو رہتی دنیا تک چراغِ راہ بنی رہے گی۔ ان کی زندگی کا سفر محض ایک مسافر کی ہجرت نہیں، بلکہ ایک روح کی اپنے اصل سے ملاقات کی تڑپ تھی۔وہ جو ایران کے آتش کدوں کے رکھوالے تھے، جب دل میں ایمان کی چنگاری جاگی تو سب کچھ تج کر نکل پڑے۔ کبھی نصرانی راہبوں کی صحبت، کبھی غلامی کی زنجیریں اور کبھی صحراؤں کی تپتی ریت؛ لیکن قدموں میں لغزش نہ آئی۔ وہ سچائی کی اس خوشبو کے تعاقب میں تھے جو انہیں سرزمینِ حجاز کی طرف کھینچ رہی تھی۔جب نگاہِ نبوت نے اس درویشِ منش مسافر کو دیکھا، تو غلامی کے سارے طوق گر گئے۔ حضرت سلمانؓ نے صرف اسلام ہی قبول نہیں کیا، بلکہ اپنے آپ کو عشقِ رسول ﷺ کے ایسے سانچے میں ڈھالا کہ زبانِ نبوت سے وہ تاریخی جملہ ادا ہوا:“سلمان ہم اہل بیت میں سے ہے۔”

Image

1447-90p خصوصی استغفار رجب المرجب و شعبان کے لئے

Image

1447- 89 مصطفی جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

Image

1447_88 شہزادہ علی اصغر 9رجب المرجب ولا دت با سعادت

Image
Translated with Google Lens. Try it yourself! https://g.co/lenstranslate

1447-87p ستر مؤکلا ن کا حصار

Image

1447_86حضرت سیدنا امام علی نقی رضی اللہ عنہ

Image
حضرت سیدنا امام علی نقی ؓ کاشمار اہلبیت کے عظیم ائمہ کرام میں ہوتاہے۔آپ کااسم پاک ”علی“تھا ،کنیت ”ابولحسن“ اور لقب مبارک ”نقی“تھا۔ اس کے علاوہ آپ کو ”ہادی“کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ آپ ؓ علم و کمال اور جود و سخا کے مظہر تھے اور اپنے زمانے میں تقوی و پار سائی اور دیگر اخلاقی اقدار میں سب سے زیادہ باشرف شخصیت تھے۔ آپ نے انتہائی کٹھن حالات میں بھی مسلمانوں کی فکری اور اخلاقی رہنمائی فرمائی۔ آپ کی تعلیمات کا مرکز اللہ کی توحید، اخلاقِ حسنہ اور انسانیت کی خدمت تھا۔

1447-85pدرود شریف

Image

1447-84pحروف مقطعات

Image

1447_83سلاطین اربعہ کی نیاز

Image

1447-82 रूहानी मोअल्लिज इलाज बिल्कुर कारी मोहम्मद आरफिन मुनववारी

Image

1447-81p रूहानी मोअल्लिज इलाज बिल्कुर कारी मोहम्मद आरफिन मुनववारी

Image

1447-80p روحانی معالج علاج بلقرآن قاری محمد عارفین منوری

Image

1474-79p रुहानी मोअल्लिज इलाज बिल्कुर आन कारी मोहम्मद आरफिन मुनववारी दुकान की बंदिश मकान की बंदिश जिन जिन्नात भूत प्रेत करतब जादू का इलाज बांझपन का इलाज मियां बीवी की मोहब्बत का इलाज न इत्तेफाकी की दूर करने का इलाज

Image

1447-p78रूहानी मोअल्लिज इलाज बिल्कुर आन कारी मोहम्मद आरफिन मुनववारी

Image

1447-p78روحانی معالج علاج بلقرآن قاری محمد عارفین منوری طارقی شاذلی

Image

1447-77استخارے کی دعا

Image

1447 76p حضرت فاطمتہ الزہرہ کی ولادت

Image

1474-75

حضرت ام البنین ؓ تاریخ اسلام کی وہ عظیم خاتون ہیں جنہوں نے وفا، ایثار اور محبتِ اہلبیت ؓ کی ایسی مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔ نام و نسب آپ کا اصل نام فاطمہ بنت حزام تھا اور تعلق عرب کے ایک نہایت بہادر اور شجاع قبیلے “کلابیہ” سے تھا۔ آپ کے والد کا نام حزام اور والدہ کا نام ثمامہ تھا۔ حضرت علی ؓ سے شادی شہزادی کونین حضرت فاطمہ زہرا (س) کی شہادت کے بعد، امیرالمومنین حضرت علی ؓ نے اپنے بھائی عقیل (جو عرب کے حسب نسب کے ماہر تھے) سے فرمایا: “میرے لیے ایک ایسی خاتون کا انتخاب کریں جو بہادروں کی نسل سے ہو، تاکہ اس سے ایک ایسا بہادر بیٹا پیدا ہو جو کربلا میں میرے حسین ؓ کی مدد کرے۔” جناب عقیل نے جناب فاطمہ بنت حزام (ام البنین) کا انتخاب کیا کیونکہ ان کے خاندان سے بڑھ کر عرب میں کوئی بہادر نہ تھا۔ لقب “ام البنین” (بیٹوں کی ماں) گھر میں آنے کے بعد آپ نے حضرت علی ؓ سے درخواست کی کہ انہیں “فاطمہ” کے نام سے نہ پکارا جائے، تاکہ جنابِ زہرا (س) کے بچوں (حسنین کریمین اور بی بی زینب و ام کلثوم) کو ان کی ماں کی یاد نہ ستائے اور انہیں تکلیف نہ ہو۔ اس لیے آپ کو “ام البنین” یعنی “بیٹوں کی م...