1474-75

حضرت ام البنین ؓ تاریخ اسلام کی وہ عظیم خاتون ہیں جنہوں نے وفا، ایثار اور محبتِ اہلبیت ؓ کی ایسی مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔

نام و نسب
آپ کا اصل نام فاطمہ بنت حزام تھا اور تعلق عرب کے ایک نہایت بہادر اور شجاع قبیلے “کلابیہ” سے تھا۔ آپ کے والد کا نام حزام اور والدہ کا نام ثمامہ تھا۔

حضرت علی ؓ سے شادی
شہزادی کونین حضرت فاطمہ زہرا (س) کی شہادت کے بعد، امیرالمومنین حضرت علی ؓ نے اپنے بھائی عقیل (جو عرب کے حسب نسب کے ماہر تھے) سے فرمایا:
“میرے لیے ایک ایسی خاتون کا انتخاب کریں جو بہادروں کی نسل سے ہو، تاکہ اس سے ایک ایسا بہادر بیٹا پیدا ہو جو کربلا میں میرے حسین ؓ کی مدد کرے۔”
جناب عقیل نے جناب فاطمہ بنت حزام (ام البنین) کا انتخاب کیا کیونکہ ان کے خاندان سے بڑھ کر عرب میں کوئی بہادر نہ تھا۔

لقب “ام البنین” (بیٹوں کی ماں)
گھر میں آنے کے بعد آپ نے حضرت علی ؓ سے درخواست کی کہ انہیں “فاطمہ” کے نام سے نہ پکارا جائے، تاکہ جنابِ زہرا (س) کے بچوں (حسنین کریمین اور بی بی زینب و ام کلثوم) کو ان کی ماں کی یاد نہ ستائے اور انہیں تکلیف نہ ہو۔ اس لیے آپ کو “ام البنین” یعنی “بیٹوں کی ماں” کہا جانے لگا۔
اولاد
اللہ نے آپ کو چار شیر جیسے بیٹے عطا کیے، جو سب کے سب کربلا میں امام حسین ؓ پر قربان ہو گئے:
1۔حضرت عباس علمدار
2۔حضرت عبداللہ
3۔حضرت جعفر
4۔حضرت عثمان

اہلبیت ؓ سے محبت اور کربلا
حضرت ام البنین ؓ نے اپنی اولاد کو بچپن ہی سے سکھایا تھا کہ وہ امام حسن ؓ اور امام حسین ؓ کے غلام ہیں۔ جب قافلہ کربلا جا رہا تھا، تو آپ مدینہ میں تھیں، لیکن آپ نے اپنے چاروں بیٹوں کو امام حسین ؓ کے ساتھ بھیجا اور تاکید کی کہ حسین ؓ پر اپنی جان نچھاور کرنے میں دریغ نہ کرنا۔

عظیم وفاداری
واقعہ کربلا کے بعد جب چند لوگ مدینہ واپس آئے اور خبر لائے، تو حضرت ام البنین ؓ نے اپنے چار بیٹوں کی شہادت کی خبر سن کر بھی پہلے یہی سوال کیا:
“مجھے یہ بتاؤ، میرا حسین ؓ کیسا ہے؟”
جب آپ کو امام حسین ؓ کی شہادت کی خبر دی گئی تو آپ رو پڑیں اور فرمایا: “ہائے! میری رگِ جان کٹ گئی۔ میرے بیٹے اور جو کچھ آسمان کے نیچے ہے، سب حسین ؓ پر قربان۔”

مقام و منزلت
آپ کو “باب الحوائج” (حاجتوں کا دروازہ یعنی حضرت عباس علمدار) کے ماں ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اہل دل آج بھی آپ کے وسیلے سے اللہ سے دعا مانگتے ہیں تو ان کی مشکلات حل ہوتی ہیں۔ آپ کا مزار جنت البقیع (مدینہ منورہ) میں ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

1474-100p حضرت سیدنا جنید بغدادی تاریخ 27 رجب المرجب