Posts

Showing posts from July, 2019

345 p

Image

فوٹو قاری محمد عارفین

Image

346 p فاطمہ علی

Image

345 pQ ایک بادشاہ نے، اپنی رعایا

ایک بادشاہ نے اپنی رعایا پر ظلم و ستم کرکے بہت ساخزانہ جمع کیا تھا ۔ اور شہر سے باہر جنگل بیابان میں ایک خفیہ غار میں چھپا دیا تھا اس خزانہ کی دو چابیاں تھیں ایک بادشاہ کے پاس دوسری اس کے معتمد وزیر کے پاس ان دو کے علاوہ کسی کو اس خفیہ خزانہ کا پتہ نہیں تھا ۔ ایک دن صبح کو بادشاہ اکیلا سیر کو نکلا ۔ اور اپنے خزانہ کو دیکھنے کے لئے دروازہ کھول کر اس میں داخل ہوگیا ۔ خزانے کے کمروں میں سونے چاندی کے ڈھیر لگے ہوئے تھے ۔ ہیرے جواہرات الماریوں میں سجے ہوئے تھے ۔ دنیا کے نوادرات کونے کونے میں بکھرے ہوئے تھے ۔ وہ ان کو دیکھ کر بہت خوش ہوا ۔ اسی دوران وزیر کا اس علاقہ سے گذر ہوا ۔ اس نے خزانے کا دروازہ کھلا دیکھا تو حیران رہ گیا اسے خیال ہوا کہ کل رات جب وہ خزانہ دیکھنے آیا تھا شاید اس وقت وہ دروازہ بند کرنا بھول گیا ہو اس نے جلدی سے دروازہ بند کرکے باہر سے مقفل کردیا۔ ادھر بادشاہ جب اپنے دل پسند خزانہ کے معائنہ سے فارغ ہوا تو واپس دروازہ پر آیا لیکن یہ کیا ؟۔ دروازہ تو باہر سے مقفل تھا اس نے زور زور سے دروازہ پیٹنا اور چیخنا شروع کیا لیکن افسوس اس کی آواز سننے والا وہاں کوئی نہ تھا ۔ وہ لوٹ ک...

Q اصحاب کہف کون تھے

اصحابِ کہف کون تھے؟ ان کی تعداد کتنی تھی؟ وہ کتنا عرصہ سوتے رہے؟ اور ان کے نام کیا کیا تھے؟ آپ اس پوسٹ میں جانیں گے ان عظیم لوگوں کے بارے کچھ دلچسپ و عجیب ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھا لئے جانے کے بعد عیسائیوں کا حال بے حد خراب اور نہایت ابتر ہو گیا۔ لوگ بت پرستی کرنے لگے اور دوسروں کو بھی بت پرستی پر مجبور کرنے لگے۔ خصوصاً ان کا ایک بادشاہ ''دقیانوس''تو اس قدر ظالم تھا کہ جو شخص بت پرستی سے انکار کرتا تھا یہ اُس کو قتل کرڈالتا تھا۔ اصحابِ کہف شہر ''اُفسوس''کے شرفاء تھے جو بادشاہ کے معزز درباری بھی تھے۔ مگر یہ لوگ صاحب ِ ایمان اور بت پرستی سے انتہائی بیزار تھے۔ ''دقیانوس''کے ظلم و جبر سے پریشان ہو کر یہ لوگ اپنا ایمان بچانے کے لئے اُس کے دربار سے بھاگ نکلے اور قریب کے پہاڑ میں ایک غار کے اندر پناہ گزیں ہوئے اور سو گئے، تو تین سو برس سے زیادہ عرصے تک اسی حال میں سوتے رہ گئے۔ دقیانوس نے جب ان لوگوں کو تلاش کرایا اور اُس کو معلوم ہوا کہ یہ لوگ غار کے اندر ہیں تو وہ بے حد ناراض ہوا۔ اور فرط غیظ و غضب میں یہ حکم دے دیا کہ غار کو ...

Q عجوہ کھجور کی سرداری

عجوہ کھجور کھجوروں کی سردار کیسے بنی ؟ ایک حبشی جس کی ناک موٹی، آنکھیں چھوٹی ، رنگت سیاہ، چلتا تو لنگڑاہٹ نمایاں نظر آتی تھی بولتا تو زبان میں لکنت غلام ابن غلام۔ ایک باغ کے جھاڑ جھنکار سے کھجوریں چننے میں مصروف تھا، یہ کھجوریں نرم نہ تھیں اور ذائقہ میں بھی باقی کھجوروں سے مختلف۔جبکہ رنگ گہرا اور دانہ بہت چھوٹا سا۔جھولی میں آئی کھجوریں اس باغ کا آخری پھل تھا-وہ شہر میں انہیں فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا تھا تاکہ کچھ پیسے جمع ہو سکیں مگر کوئی ان کھجوروں کا طلبگار نہ تھا۔ اسی اثنا میں ایک آواز آئی ’’اے حبشی ؓ یہ کھجور تو تجھ جیسی کالی اور خشک ہے‘‘۔ دل کے آبگینے پر اک ٹھیس لگی اور آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے، سیدنا بلال ؓ جو کہ یک حبشی غلام تھے کھجوریں جھولی میں ہی سمیٹ کر بیٹھ گئے۔ایسے میں وہاں سے اس کا گذر ہو جو ٹوٹے دلوں کا سہارا ہے جس نے مسکینوں کو عزت بخشی وہ جس کا نام غمزدہ دلوں کی تسکین ہے- جی ہاں وہی محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم جو دو جہانوں کا سردار ہے۔آپ نے بلال رضی اللہ عنہ سے رونے کا سبب پوچھا تو سیدنا بلال ؓنے جھولی کھول کر سب ماجرہ کہہ سنایا۔رحمت اللعالمین ﷺ نے بازار ک...

Q ایک حکیم نے، اپنے بیٹے سےکہا

ایک دفعہ حکیم اپنے جوان بیٹے کو فجر کی نماز کے لئے جگاتا ہے، جب وہ مسجد کی طرف نکلتے ہیں تو سارے عالم میں ایک عجیب سناٹا چھایا ہوتا ہے بیٹا مسجد جاکر اپنے باپ کے ساتھ جماعت کی نماز پڑھتا ہے۔ جماعت میں نمازیوں کی تعداد نہ ہونے کے برار ہوتی ہے۔ نماز کے بعد اشراق تک دونوں باپ بیٹا عبادات اور ذکر اللہ میں وقت گزارتے ہیں۔ جب اشراق کی نماز پڑھ کر باپ بیٹا مسجد سے باہر نکلتےہیں تو ساری دنیا جاگ رہی ہوتی ہے اور ہر شخص اپنے کام میں مصروف نظر آتا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر جوان شخص کو بہت دکھ ہوتاہے اور وہ کہتا ہے ’’ابو جان دیکھیں کتنے بدنصیب ہیں یہ لوگ کہ دنیا کی بڑی فکر ہے مگر آخرت کی کسی کو کوئی پرواہ نہیں، نماز کے وقت نیند نہیں چھوڑ سکتے مگر ایک گھنٹے بعد دنیا کمانے کیسے گھروں سے نکل آئے ہیں؟ یہ سن حکیم اپنے جوان بیٹے سے کہتا ہے۔ ’’تو ان تمام لوگوں سے زیادہ بدنصیب ہے، اس سے بہتر تو یہ تھا کہ تو نماز ہی نہ پڑھتا، تو نے نماز پڑھ کر اللہ کی مخلوق کی غیبت کی اور اس کی مخلوق پر مغرور ہوا اور ان تمام کو اپنے سے کم تر سمجھا۔ تیرا کیا خیال ہے کیا اللہ ایسی عبادت کو قبول کرے گا، جس کو کر کے تو اسکی مخلو...

Q

ایک بچے کا خوف جہنم حضرت بہلول ؒ گزر رہے تھے، ایک بچے کو دیکھا… وہ کھڑا رو رہا تھا … دوسرے بچے اخروٹ سے کھیل رہے تھے… انہوں نے سمجھا اس کے پاس اخروٹ نہیں، اس لیے رو رہا ہے، میں اس کو لے کر دیتا ہوں ، انہوں نے کہا بیٹا !رو نہیں … میں تجھے اخروٹ لے کر دے دیتا ہوں … تو بھی کھیل۔ اس بچے نے کہا: بہلول! کیاہم دنیا میں کھیلنے آئے ہیں؟ ان کو اس بات کی توقع نہیں تھی کہ بچہ ایسا جواب دے گا تو انہوں نے کہا اچھا، پھر کیا کرنے آئے ہیں؟ بچے نے کہا: الله تعالیٰ کی عبادت کرنے آئے ہیں … انہوں نے کہا بچے! … ابھی تو تم بہت چھوٹے ہو …تمہارے غم کی یہ چیز نہیں ہے، ابھی تو تمہارا اس منزل میں آنے میں بھی بہت وقت پڑا ہے … تو اس نے کہا: ارے بہلول! مجھے دھوکہ نہ دے … میں نے اپنی ماں کو دیکھا ہے … وہ صبح جب آگ جلاتی ہے تو پہلے چھوٹی لکڑیوں سے جلاتی ہے اور پھر بعد میں بڑی لکڑیاں رکھتی ہے… اس لیے مجھے ڈر ہے کہیں دوزخ مجھ سے نہ جلائی جائے اور میرے اوپر بڑوں کو نہ ڈالا جائے ۔ یہ سن کر بہلول توبے ہوش ہو کر گر گئے۔ کسی ماں نے اس بچے کو وقت دیا تھا۔
Image