Posts

Showing posts from June, 2019
Image
Image
Image

Q

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَعْبَدٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ لَمَّا بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُعَاذًا نَحْوَ الْيَمَنِ قَالَ لَهُ ‏"‏ إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَى أَنْ يُوَحِّدُوا اللَّهَ تَعَالَى فَإِذَا عَرَفُوا ذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ، فَإِذَا صَلُّوا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكَاةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ غَنِيِّهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فَقِيرِهِمْ، فَإِذَا أَقَرُّوا بِذَلِكَ فَخُذْ مِنْهُمْ وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِ النَّاسِ Narrated By Ibn Abbas : When the Prophet sent Muadh to Yemen, he said to him, "You are going to a nation from the people of the Scripture,...

Q

بنی اسرائیل میں ایک شخص بڑا ہی نیک، عابد اور زاہد تھا- سب لوگوں میں اس کی بڑی عزت تھی- اس کی نیکی اور پارسائی کا بڑا ہی چرچا تھا- اسی علاقے میں ایک اور شخص تھا- لوگ اسے بہت بُرا انسان سمجھتے تھے- وہ تھا ہی ایسا بد عمل اور بدکردار، کوئی بھی اسے اچھا نہیں سمجھتا تھا- ایک روز اس گناہگار شخص نے دیکھا کہ وہ نیکوکار ایک میدان میں بیٹھا ہوا ہے- ہر طرف تیز دھوپ پھیلی ہوئی ہے مگر اللہ کے اس نیک بندے پر ایک بادل کے ٹکڑے نے سایہ کر رکھا ہے- گناہگار نے یہ منظر دیکھا تو اپنے دل مے بڑا شرمسار ہوا اور یہ خیال پیدا ہوا کہ اس چلچلاتی دھوپ میں، جہاں دور دور تک سایہ نہیں ہے، بادل کے ایک ٹکڑے نے صرف اس لئے اس پر سایہ کر رکھا ہے کہ یہ اللہ کا نیک بندہ ہے، کیوں نا میں بھی اس کے ساتھ بیٹھ جاؤں- کیا عجب کہ اس کی برکت سے اللہ تعالی مجھے بھی بخش سے اور میری خطاؤں کو معاف کر دے- یہ شخص عابد و زاہد کے پاس گیا اور اس کے ساتھ سائے میں بیٹھ گیا- اس کے بیٹھتے ہی اس عابد و زاہد کے دل میں خیال آیا کہ یہ اپنے زمانے کا بدترین گناہگار اور پوری قوم میں بدنام شخص ہے- اس کے ساتھ تو کوئی بھی اٹھنا بیٹھنا پسند نہیں کرتا- یہ ...

Q

عراق کا بادشاہ ملک فیصل (اول) گہری نیند میں تھا۔ اس نے خواب میں دیکھا کہ کوئی اس سے کہہ رہا تھا۔ ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو صحابی دریائے دجلہ کے کنارے دفن ہیں۔ دریا کا رخ تبدیل ہورہا ہے۔ پانی ہماری طرف بڑھ رہا ہے۔ حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر مبارک میں پانی آچکا ہے جبکہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر بھی نم ہونے لگی ہے ہمیں یہاں سے نکال کر دریا کے کنارے سے کچھ فاصلے پر دفن کیا جائے۔“ عراق کے بادشاہ نے یہ الفاظ خواب میں سنے لیکن ان کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔ دوسری رات پھر یہی الفاظ سنائی دئیے لیکن اس نے اب بھی توجہ نہ دی۔ تیسری رات یہ خواب عراق کے مفتی اعظم ”نوری السعید پاشا‘ ‘ کو دکھائی دیا۔ انہوں نے اسی وقت وزیراعظم کو ساتھ لیا اور بادشاہ کی خدمت میں پہنچ گئے جب انہوں نے بادشاہ سے اپنا خواب بیان کیا تو بادشاہ چونکا اور بولا: ”یہ خواب تو میں بھی دوبار دیکھ چکا ہوں“ اب انہوں نے مشورہ کیا آخر بادشاہ نے مفتی اعظم سے کہا پہلے آپ قبروں کو کھولنے کا فتویٰ دیں تب میں اس خواب کے مطابق عمل کروں گا۔ مفتی اعظم نے اسی وقت قبروں کو کھولنے اور اس میں سے نعشوں کو نکال...

Q

بنی اسرائیل میں ایک شخص بڑا ہی نیک، عابد اور زاہد تھا- سب لوگوں میں اس کی بڑی عزت تھی- اس کی نیکی اور پارسائی کا بڑا ہی چرچا تھا- اسی علاقے میں ایک اور شخص تھا- لوگ اسے بہت بُرا انسان سمجھتے تھے- وہ تھا ہی ایسا بد عمل اور بدکردار، کوئی بھی اسے اچھا نہیں سمجھتا تھا- ایک روز اس گناہگار شخص نے دیکھا کہ وہ نیکوکار ایک میدان میں بیٹھا ہوا ہے- ہر طرف تیز دھوپ پھیلی ہوئی ہے مگر اللہ کے اس نیک بندے پر ایک بادل کے ٹکڑے نے سایہ کر رکھا ہے- گناہگار نے یہ منظر دیکھا تو اپنے دل مے بڑا شرمسار ہوا اور یہ خیال پیدا ہوا کہ اس چلچلاتی دھوپ میں، جہاں دور دور تک سایہ نہیں ہے، بادل کے ایک ٹکڑے نے صرف اس لئے اس پر سایہ کر رکھا ہے کہ یہ اللہ کا نیک بندہ ہے، کیوں نا میں بھی اس کے ساتھ بیٹھ جاؤں- کیا عجب کہ اس کی برکت سے اللہ تعالی مجھے بھی بخش سے اور میری خطاؤں کو معاف کر دے- یہ شخص عابد و زاہد کے پاس گیا اور اس کے ساتھ سائے میں بیٹھ گیا- اس کے بیٹھتے ہی اس عابد و زاہد کے دل میں خیال آیا کہ یہ اپنے زمانے کا بدترین گناہگار اور پوری قوم میں بدنام شخص ہے- اس کے ساتھ تو کوئی بھی اٹھنا بیٹھنا پسند نہیں کرتا- یہ ...

246 pQ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کی ذہانت

حضرت امام اعظم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کی ذہانت حضرت امام اعظم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ سبق پڑھا رہے تھے برقعے میں ایک عورت آئی اس نے ایک سیب اور ایک چھری امام صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کو دے دی۔طلباءبڑے خوش ہوئے کہ بھئی بہت ہی نیک عورت ہے کہ سیب تو لائی ساتھ چھری بھی لے آئی تاکہ ہمیں تلا ش نہ کرنی پڑے۔ کیونکہ طالبعلموں کی سستی تو بڑی مشہور ہوتی ہے۔………………… خیر بات یہ کر رہا تھا کہ طلباءبڑے خوش ہوئے کہ بڑی نیک عورت ہے کہ سیب تولائی ہے ساتھ چھری بھی لائی ہے۔امام اعظم رحمہ اللہ تعالیٰ نے سیب کاٹااس کا جو اندر کا حصّہ تھا وہ باہر نکال کر چھری اور سیب عورت کو واپس کر دیا ۔ اب شاگرد امام صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کو حدیثیں سنا رہے ہیں کہ حضرت حدیث میں تو آتا ہے کہ ہدیہ قبول کر لینا چاہیے تو آپ نے تو حدیث کے خلا ف عمل کیا ہے۔اگر آپ کو ضرورت نہیں تھی تو ہم جو یہاں بیٹھے ہوئے تھے اور ہدیے میں سارے شریک ہوتے ہیں آپ ہمیں دے دیتے۔امام صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاوہ بے چاری تو مسئلہ پوچھنے آئی تھی۔اب یہ حیر ان کہ مسئلہ کونسا پوچھ کر گئی ہے۔نہ اس نے زبان سے پوچھا نہ اس نے زبان سے بتایا ۔ ...

245 pQ

قبول اسلام کا یہ واقعہ حیرت انگیز بھی ہے اور سبق آموز بھی۔ حیرت انگیز اس اعتبار سے کہ نزول قرآن کو کم و بیش ڈیڑھ ہزار سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی آج تک اس نکتے پر کسی کی نظر نہ جاسکی جو ایک امریکی ڈاکٹر کے قبول اسلام کا محرک بنی اور سبق آموز اس پہلو سے ہے کہ کتاب الٰہی میں غوروتدبر اور تحقیق جستجو بندگان خدا کیلئے ہدایت و معرفت کے دروازے کھولنے اور صراط مستقیم پر گامزن ہونے کا آج بھی اتنا ہی مؤثر ذریعہ ہے جتنا وہ نزول وحی کے وقت تھا۔امریکہ کے ایک ہسپتال میں ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا اور اس واقعے کے زیراثر امریکن ڈاکٹر مسلمان ہوگیا۔ مذکورہ ہسپتال میں ایک روز ڈلیوری کے دو کیس ایک ساتھ آئے۔ ایک عورت سے لڑکا پیدا ہوااور دوسری سے لڑکی… جس رات میں ان دونوں بچوں کی ولادت ہوئی اتفاق سے نگران ڈاکٹر موقع پر موجود نہیں تھا‘ دونوں بچوں کی کلائی میں وہ پٹی بھی نہیں باندھی ہوئی تھی جس پر بچے کی ماں کا نام درج ہوتا ہے تو نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں بچے خلط ملط ہوگئے اور ڈاکٹروں کیلئے یہ شناخت کرنا مشکل ہوگیا کہ کس عورت کا کون سا بچہ ہے حالانکہ ان میں سے ایک لڑکی تھی اور دوسرا لڑکا… ولادت کی نگرانی ...

244 pQ

حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عمر شریف جب بارہ برس ہوئی تو اس وقت حضرت ابو طالب نے تجارت کی غرض سے ملک شام کا سفر کیا۔ حضرت ابو طالب کو چونکہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے بہت ہی والہانہ محبت تھی اس لیے وہ آپ کو بھی اس سفر میں اپنے ہمراہ لے گئے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اعلان نبوت سے قبل تین بار تجارتی سفر فرمایا۔ دو مرتبہ ملک شام گئے اور ایک بار یمن تشریف لے گئے، یہ ملک شام کا پہلا سفر ہے اس سفر کے دوران بُصریٰ میں بُحیریٰ راہب (عیسائی) کے پاس آپ کا قیام ہوا۔ اس نے توراۃ و انجیل میں بیان کی ہوئی نبی آخر الزماں کی نشانیوں سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دیکھتے ہی پہچان لیا اور بہت عقیدت اور احترام کے ساتھ اس نے آپ کے قافلہ والوں کی دعوت کی اور ابو طالب سے کہا کہ یہ سارے جہان کے سردار اور رب العالمین کے رسول ہیں، جن کو خدا نے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ شجر و حجران کو سجدہ کرتے ہیں اور ابر ان پر سایہ کرتا ہے اور ان کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت ہے۔ اس لئے تمہارے اور ان کے حق میں یہی بہتر ہوگا کہ اب تم ان کو لے کر آ...

243pQ

''گورنر کے سامنے اس کا بیٹاکوڑے کھاتاہے'''​ حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کے عہد خلافت میں مصر میں حاکم تھے۔ مصر کا ایک آدمی المومنین عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: "اے امیر المومنین!میں ظلم سے آپ کی پناہ مانگتاہوں۔" 'تم نے ایسے آدمی کی پناہ حاصل کی جو تمہیں پناہ دے سکتا ۔' مصری بولا؛میں نے حضرت عمروبن عاص رضی اﷲ عنہ کے بیٹے کے ساتھ ڈور میںمقابلہ کیا میں اس سے اگے بڑھ گیا تو مجھے کوڑے مارنے لگا اور کہنے لگا اور کہنے لگا"میں شریف خاندان کا بیٹا ہوں"۔ یہ شکوہ سن کرحضرت عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے مصر کے حاکم حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو خط لکھا کہ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ تشریف لائیں۔ عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ اپنےبیٹے کیساتھ امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے توامیرالمومنین نے پوچھا؛مصری کدھر ہے؟ وہ سامنے آیا تو کہا:یہ" کوڑا لے اورمار" امیر المومنین کہتے جارہے تھے؛ 'شریف خاندان کے بیٹے کو مارو' حضرت انس رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں:مصری نے عمرو بن عاص رضی...

242 p हल دجال یہودی کی نسل سے ہوگا

دجال دجال یہودیوں کی نسل سے ہوگا جس کا قد ٹھگنا ہو گا ،دونوں پاؤں ٹیڑھے ہو نگے ۔ جسم پر بالوں کی بھر مار ہوگی ، رنگ سرخ یا گندمی ہو گا سر کے بال حبشیوں کی طرح ہونگے،ناک چونچ کی طرح ہو گی، بائیں آنکھ سے کانا ہو گا دائیں آنکھ میں انگور کے بقدر ناخنہ ہو گا۔ اس کے ماتھے پر ک، ا، ف، ر لکھا ہوگا، جسے ہر مسلمان بآسانی پڑھ سکے گا ، اس کی آنکھ سوئی ہوگی مگر دل جاگتا رہے گا شروع میں وہ ایمان واصلاح کا دعویٰ لے کر اٹھے گا، لیکن جیسے ہی تھوڑے بہت متبعین میسر ہوں گے وہ نبوت اور پھر خدائی کا دعویٰ کرے گا۔ اس کی سواری بھی اتنی بڑی ہو گی کہ اسکے دونوں کانوں کا درمیانی فاصلہ ہی چالیس گز کاہو گا . ۔ایک قدم تاحد نگاہ مسافت کو طے کرلے گا دجال پکا جھوٹا اور اعلی درجہ کا شعبدے باز ہو گا، اس کے پاس غلوں کے ڈھیر اور پانی کی نہریں ہو نگی، زمین میں مدفون تمام خزانے باہر نکل کر شہد کی مکھیوں کی مانند اس کے ساتھ ہولیں گے ۔جو قبیلہ اس کی خدائی پر ایمان لائے گادجال اس پر بارش برسائے گا جس کی وجہ سے کھانے پینے کی چیزیں ابل پڑیں گے،درختوں پر پھل آجائیں گے، کچھ لوگوں سے آکر کہے گا کہ اگر میں تمہارے ماں باپوں کو زندہ ک...

241 pQ

اللہ نے ان لوگوں کی بات سن لی حضرت ابو بکر صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ ایک روز چلتے پھرتے مدینے میں یہودیوں کے محلے میں پہنچ گئے۔وہاں ایک بڑی تعداد میں یہودی جمع تھے اس روز یہودیوں کا بہت بڑا عالم فنحاص اس اجتماع میں آیا تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے فنحاص سے کہا اے فنحاص ! اللہ سے ڈر اور اسلام قبول کر لے ۔ اللہ کی قسم ! تو خوب جانتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور وہ اللہ کی طرف سے حق لے کر آئے ہیں اور تم یہ بات اپنی تورات اور انجیل میں لکھی ہوئی پاتے ہو ۔ اس پر فنحاص کہنے لگا : وہ اللہ جو فقیر ہے ، بندوں سے قرض مانگتا ہے اور ہم تو غنی ہیں ۔ غرض فحناص نے یہ جو مذاق کیا تو قرآن کی اس آیت پر اللہ کا مذاق اڑایا ۔ من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا ( سورہ البقرہ ۲۴۵) صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے جب دیکھا کہ اللہ کا دشمن میرے رب کا مذاق اڑا رہا ہے تو انہوں نے اس کے منہ پر طمانچہ دے مارا اور کہا : ” اس رب کی قسم جس کی مٹھی میں ابوبکر کی جان ہے اگر ہمارے اور تمہارے درمیان ( امن کا ) معاہدہ نہ ہوتا تو اے اللہ کے دشمن ! میں تیری گردن اڑا دیتا -“ فنحاص ...

240 pQ

ایک بچے کا خوف جہنم حضرت بہلول ؒ گزر رہے تھے، ایک بچے کو دیکھا… وہ کھڑا رو رہا تھا … دوسرے بچے اخروٹ سے کھیل رہے تھے… انہوں نے سمجھا اس کے پاس اخروٹ نہیں، اس لیے رو رہا ہے، میں اس کو لے کر دیتا ہوں ، انہوں نے کہا بیٹا !رو نہیں … میں تجھے اخروٹ لے کر دے دیتا ہوں … تو بھی کھیل۔ اس بچے نے کہا: بہلول! کیاہم دنیا میں کھیلنے آئے ہیں؟ ان کو اس بات کی توقع نہیں تھی کہ بچہ ایسا جواب دے گا تو انہوں نے کہا اچھا، پھر کیا کرنے آئے ہیں؟ بچے نے کہا: الله تعالیٰ کی عبادت کرنے آئے ہیں … انہوں نے کہا بچے! … ابھی تو تم بہت چھوٹے ہو …تمہارے غم کی یہ چیز نہیں ہے، ابھی تو تمہارا اس منزل میں آنے میں بھی بہت وقت پڑا ہے … تو اس نے کہا: ارے بہلول! مجھے دھوکہ نہ دے … میں نے اپنی ماں کو دیکھا ہے … وہ صبح جب آگ جلاتی ہے تو پہلے چھوٹی لکڑیوں سے جلاتی ہے اور پھر بعد میں بڑی لکڑیاں رکھتی ہے… اس لیے مجھے ڈر ہے کہیں دوزخ مجھ سے نہ جلائی جائے اور میرے اوپر بڑوں کو نہ ڈالا جائے ۔ یہ سن کر بہلول توبے ہوش ہو کر گر گئے۔ کسی ماں نے اس بچے کو وقت دیا تھا۔

239 pQ

ایک گاؤں میں ایک باپردہ خاتون رہتی تھیں جن کی ڈیمانڈ تھی کہ شادی اس سے کریں گی جو انہیں باپردہ رکھے گا ایک نوجوان اس شرط پر نکاح کے لیے رضامند ہوجاتا ہے دونوں کی شادی ہوجاتی ہے ۔ وقت گذرتا رہتا ہے یہاں تک کہ ایک بیٹا ہوجاتا ہے ۔ ایک دن شوہر کہتا ہے کہ میں سارا دن کھیتوں میں کام کرتا ہوں ۔ کھانے کے لیے مجھے گھر آنا پڑتا ہے جس سے وقت کا ضیاع ہوتا ہے تم مجھے کھانا کھیتوں میں پہنچادیا کرو بیوی راضی ہوجاتی ہے ۔۔ وقت گذرتے گذرتے ایک اور بیٹا ہوجاتا ہے جس پر شوہر کہتا ہے کہ اب گذارا مشکل ہے تمہیں میرے ساتھ کھیتوں میں ہاتھ بٹانا پڑے گا یوں وہ باپردگی سے نیم پردے تک پہنچ جاتی ہے اور تیسرے بیٹے کی پیدائش پر اس کا شوہر مکمل بے پردگی تک لے آتا ہے وقت گذرتا رہتا ہے یہاں تک اولاد جوان ہوجاتی ہے ایک دن یونہی بیٹھے بیٹھے شوہر ہسنے لگتا ہے بیوی سبب پوچھتی ہے تو کہتا ہے کہ بڑا تو پردہ پردہ کرتی تھی آخر کار تیرا پردہ ختم ہوگیا ۔۔ کیا فرق پڑا پردے اور بے پردگی کا زندگی تو اب بھی ویسے ہی گذر رہی ہے وہ بولتی ہے کہ تم ساتھ والے کمرے میں چھپ جاؤ میں تمہیں پردے اور بے پردگی کا فرق سمجھاتی ہوں شوہر کمرے م...

238 p صدقہ فطرہ

Image