243pQ

''گورنر کے سامنے اس کا بیٹاکوڑے کھاتاہے'''​ حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کے عہد خلافت میں مصر میں حاکم تھے۔ مصر کا ایک آدمی المومنین عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: "اے امیر المومنین!میں ظلم سے آپ کی پناہ مانگتاہوں۔" 'تم نے ایسے آدمی کی پناہ حاصل کی جو تمہیں پناہ دے سکتا ۔' مصری بولا؛میں نے حضرت عمروبن عاص رضی اﷲ عنہ کے بیٹے کے ساتھ ڈور میںمقابلہ کیا میں اس سے اگے بڑھ گیا تو مجھے کوڑے مارنے لگا اور کہنے لگا اور کہنے لگا"میں شریف خاندان کا بیٹا ہوں"۔ یہ شکوہ سن کرحضرت عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے مصر کے حاکم حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو خط لکھا کہ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ تشریف لائیں۔ عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ اپنےبیٹے کیساتھ امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے توامیرالمومنین نے پوچھا؛مصری کدھر ہے؟ وہ سامنے آیا تو کہا:یہ" کوڑا لے اورمار" امیر المومنین کہتے جارہے تھے؛ 'شریف خاندان کے بیٹے کو مارو' حضرت انس رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں:مصری نے عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کے بیٹے کو کوڑے لگائے اور اﷲ کی قسم!بہت مارا اور ہم اسکی پٹائی چاہتے بھی تھے۔ لیکن مصری برابر مارے جا رہا تھا،حتی کہ ہمارے خواہش ہوئی کہ اب اسکی پٹائی بندہوجائے۔ پھر المومنین عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے مصری سے فرمایا: "کوڑاعمروبن عاص کی تینڈ﴿گنجےسر﴾پر بھی لگاؤ" مصری نے عرض کی؛اے امیرالمومنین!انکے بیٹے نے میری پٹائی کی ہے اورمیں نے اس سے قصاص لےلیا۔ پھرامیر المومنین عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کی طرف متوجہ ہوئےاور فرمایا: "تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنارکھاہے جب کہ انکی ماٰوں نے انھیں آزاد جنا تھا؟؟ " عمروبن عاص رضی اﷲ عنہ نے عرض کی: "اے امیرالمومنین!مجھے اس معاملے میں کچھ بھی خبر نہیں اور نہ یہ میرے پاس شکایت لےکرآیاتھا"۔

Comments

Popular posts from this blog

1474-100p حضرت سیدنا جنید بغدادی تاریخ 27 رجب المرجب