1447/110p جناتوں کے خط سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جناتوں کے نام یہ خط لکھا تھا گھر کی حفاظت
اگر کوئی شخص اس مکتوب مبارک کو لکھ کر اپنے گھر میں لگا دے تو اللہ کے حکم سے وہ گھر ہر قسم کے شریر جنات، نظرِ بد اور شیطانی اثرات سے محفوظ ہو جاتا ہے اور گھر میں سکون و برکت نازل ہوتی ہے؛ اسے لکھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ باوضو ہو کر صاف کاغذ پر قلم سے یہ مکتوب لکھ لیں یا کسی مستند جگہ سے حاصل کر کے گھر کی کسی اونچی اور پاک جگہ پر آویزاں کر دیں ۔ اس کا پسِ منظر یہ ہے کہ جب حضرت ابودجانہ رضی اللہ عنہ نے رات کو اپنے گھر میں ڈراؤنی آوازیں، بجلی جیسی چمک اور ایک سیاہ سایہ دیکھا جو ان پر آگ کے انگارے پھینک رہا تھا، تو نبی کریم ﷺ کے حکم پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ مکتوب تحریر فرمایا ۔ حضرت ابودجانہ رضی اللہ عنہ نے جب اسے اپنے سرہانے رکھا تو جنات رات بھر یہ کہہ کر روتے رہے کہ “اے ابودجانہ! اس تحریر نے ہمیں جلا دیا ہے، اسے ہٹا لو تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ نہ صرف تمہارے گھر بلکہ تمہارے پڑوس میں بھی کبھی نہیں آئیں گے” ۔ یہ مکتوبِ مبارک درحقیقت جنات کے شر سے بچاؤ کے لیے ایک طاقتور حفاظتی ڈھال اور تہدیدی نامہ ہے ۔(دلائل النبوۃ—حدیث نمبر 3108)
ترجمہ :
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یہ مکتوب (حضرت) محمد ﷺ کی طرف سے ہے جو اللہ رب العالمین کے رسول ہیں ان جنات کے نام جو انسانی آبادیوں میں داخل ہوتے ہیں، رہائش پذیر ہیں یا زائر بن کر آتے ہیں مگر وہ جو خیر کے ساتھ رات کے وقت آتے ہیں۔ اما بعد (یاد رکھو) ہمارے لیے اور تمہارے لیے حق کے سامنے ایک گھڑی ہے، اگر تو عاشق فریفتہ ہے یا گناہ گار ہے، بہرصورت یہ کتاب الہی ہم پر اور تم پر ناطق ہے حق کے ساتھ۔ بے شک ہم لکھواتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو اور ہمارے فرستادہ لکھتے ہیں جو تم مکر کرتے ہو۔ چھوڑ دو میرے اس رقعہ کے حامل کو اور چلے جاؤ بتوں کے پجاریوں کی طرف اور ان کی طرف جو یہ زعم رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور الٰہ بھی ہیں، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، ہر شے فنا ہونے والی ہے مگر اس کی ذات، اس کا حکم چلتا ہے اور اس کی طرف تم دوبارہ لوٹائے جاؤ گے۔ آمین (خدا کرے) ان کی مدد نہ ہو، تم حق پر کندہ ہو گئے، اللہ تعالیٰ کے دشمن منتشر ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کی حجت تمام ہو گئی۔ برائی سے پھرنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی طاقت نہیں مگر اللہ تعالیٰ کی مدد سے جو بلند اور عظیم ہے، پس کفایت کرے گا اللہ تعالیٰ تیرے لیے ان کی طرف سے اور وہ سننے والا جاننے والا ہے۔
Comments
Post a Comment