1447-97pیہ نیاز اس عظیم الشان نعمت کا شکرانہ ہے جب سن 122 ہجری، 22 رجب المرجب کی مبارک شب، وقتِ تہجد اللہ رب العزت نے سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کو ولایت کے اعلیٰ ترین درجے یعنی مقامِ غوثیتِ کبریٰ پر فائز فرمایا۔ اس بے مثال ربانی عطا پر اظہارِ تشکر کے طور پر آپ نے صبحِ صادق دودھ اور چاول سے تیار کردہ طعام (کھیر) بطورِ نیاز تقسیم کرنے کا اہتمام فرمایا۔ آپ نے مٹی کے پیالوں میں نیاز سجا کر احباب کو مدعو کیا اور فرمایا:“آج کی شب ربِ کریم نے مجھے مقامِ غوثیتِ کبریٰ عطا فرمایا ہے، اسی نعمت کے شکرانے اور تبرک کے طور پر یہ نیاز پیشِ خدمت ہے۔”جب آپ کے صاحبزادے سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ اور دیگر رفقاء نے اس نیاز کی فضیلت دریافت کی، تو آپ نے ارشاد فرمایا:“ربِ کعبہ کی قسم! جس طرح میں اس نعمت پر شکر گزار ہوں، جو شخص بھی اس تاریخ میں اللہ کا شکر ادا کرے گا اور ہمارے وسیلے سے بارگاہِ الہٰی میں دستِ دعا بلند کرے گا، اللہ رب العزت اس کی مرادیں ضرور پوری فرمائے گا اور اسے مایوس نہیں لوٹائے گا، کیونکہ اللہ اپنے شکر گزار بندوں پر فضل و کرم کی انتہا کر دیتا ہے۔”

یہ نیاز اس عظیم الشان نعمت کا شکرانہ ہے جب سن 122 ہجری، 22 رجب المرجب کی مبارک شب، وقتِ تہجد اللہ رب العزت نے سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کو ولایت کے اعلیٰ ترین درجے یعنی مقامِ غوثیتِ کبریٰ پر فائز فرمایا۔ اس بے مثال ربانی عطا پر اظہارِ تشکر کے طور پر آپ نے صبحِ صادق دودھ اور چاول سے تیار کردہ طعام (کھیر) بطورِ نیاز تقسیم کرنے کا اہتمام فرمایا۔ آپ نے مٹی کے پیالوں میں نیاز سجا کر احباب کو مدعو کیا اور فرمایا:
“آج کی شب ربِ کریم نے مجھے مقامِ غوثیتِ کبریٰ عطا فرمایا ہے، اسی نعمت کے شکرانے اور تبرک کے طور پر یہ نیاز پیشِ خدمت ہے۔”
جب آپ کے صاحبزادے سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ اور دیگر رفقاء نے اس نیاز کی فضیلت دریافت کی، تو آپ نے ارشاد فرمایا:

“ربِ کعبہ کی قسم! جس طرح میں اس نعمت پر شکر گزار ہوں، جو شخص بھی اس تاریخ میں اللہ کا شکر ادا کرے گا اور ہمارے وسیلے سے بارگاہِ الہٰی میں دستِ دعا بلند کرے گا، اللہ رب العزت اس کی مرادیں ضرور پوری فرمائے گا اور اسے مایوس نہیں لوٹائے گا، کیونکہ اللہ اپنے شکر گزار بندوں پر فضل و کرم کی انتہا کر دیتا ہے۔”

Comments

Popular posts from this blog

1474-100p حضرت سیدنا جنید بغدادی تاریخ 27 رجب المرجب