Q2حدیث
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَلَى ابْنِ عَامِرٍ يَعُودُهُ وَهُوَ مَرِيضٌ فَقَالَ أَلَا تَدْعُو اللَّهَ لِي يَا ابْنَ عُمَرَ؟ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ وَلَا صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ وَكُنْتَ عَلَى الْبَصْرَةِ.
It was narrated from Simak bin Harb, that Mus'ab bin Sa'd said: "'Abdullah bin 'Umar came to visit Ibn 'Amir when he was sick and he said: 'Won't you supplicate to Allah for me, O Ibn 'Umar?' He said: 'I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "No Salat is accepted without Wudu' (purification), and no charity (is accepted) that comes from Ghulul," and you were the governor of Al-Basrah."'
حضرت مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ابن عامر کی عیادت کے لیے آئے کیونکہ وہ بیمار تھے ۔ابن عامر نے کہا اے ابن عمر تم میرے لیے دعا نہیں کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا آپ فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نماز کو بغیر طہارت کے قبول ہی نہیں کرتا ، اور نہ ہی مال غنیمت کےچوری شدہ مال سے صدقہ قبول فرماتا ہے ۔اور آپ تو بصرہ کے حاکم تھے ۔
Comments
Post a Comment