1583pشہادت 15رمضان المبارک سیدناامام حسن رضی اللہ عنہ
🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰
*السّلامُ علیکم ورحمتہ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ؛*
✨🌟⭐🌙⚡⚡🌙⭐🌟✨
*کریم ابنِ کریم، سیّد ابنِ سیّد، مولا ابنِ مولا، شبیہہ مُصطفٰے و راکبِ دوشِ مُصطفٰے، سیّدالسّادات، امیر المومنین حضور سیّدنا امامِ حسنِ مُجتبٰی علیٰ جدّہ الکریم وعلیہ الصّلوۃ والسّلام۔*
✅ جنّتی جوانوں کے سردار،
✅ عکس جمال مصطفٰے صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم،
✅ صبر و رضا کے پیکر،
✅ شہیدِ حق،
✅ قٙمٙرِ بنی ہاشم،
✅ سخاوت جن پہ ناز کرتی ہے،
✅ شُجاعت ان کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔
بارگاہِ ناز میں زیادہ سے زیادہ ایصالِ ثواب کی ترکیب کیجئے۔
*15/رمضان المبارک یومِ ولادتِ حضرتِ سیّدنا امامِ حسنِ مُجتبٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہ*
*************************
*✅ نام و نسب* اسمِ گرامی: حسن۔
*✅ کنّیت* ابو محمّد۔
*✅ القاب:* تقی، نقی، زکی، سیّدِ شبابِ اہلُ الجنۃ، سبطِ رسول، مُجتبیٰ، جوّاد، کریم، شبیہ الرسول، ریحانۃ النّبی۔
*✅ سلسلہ نسب*
امامِ حسنِ مجتبیٰ بن علی المرتضیٰ بن ابی طالب بن عبدالمُطّلِب بن ہاشم بن عبدِ مناف الیٰ آخرہ۔۔۔
*✅ والد* سیّدالاولیاء، رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
*✅ والدہ* خاتونِ جنّت سیّدۃ النّساء، سلام اللہ علیہا۔
*✅ نانا* سیّدالانبیاءﷺ۔
*✅ تاریخِ ولادت:* بروز منگل 15/رمضان المبارک 3ھ. مطابق فروری/625ء. کو مدینۃ المنوّرہ میں پیدا ہوئے۔۔۔
✅سرورِ کونین ﷺ کو خوشخبری دی گئی، آپ فوراً تشریف لائے داہنے کان میں آذان، اور بائیں کان میں اقامت، گھٹی میں لعابِ دہن عطاء کیا۔
یہی وجہ ہے کہ شہزادہ جنّت کا سردار ہوا۔۔۔
✅حضرتِ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما فرمایا کرتے تھے کہ: *"واللہ ماقامت النّساء عن مثلِ الحسن بن علی"۔*
یعنی اللہ کی قسم کسی عورت نے حسن بن علی کی مثل بچّہ نہیں جٙنا۔۔۔
*👇🏻حوالہ۔۔۔*
*_📗 ( البدایہ والنہایہ)_*
*✅ سیرت وخصائص*
سیّدالاسخیاء، امام الاولیاء، صاحبِ جودو سخا، نورِ نظر سیّدۃ النّساء، جگرگوشۂ علی المرتضی، راکبِ دوشِ مصطفیٰﷺ، امام المسلمین حضرتِ امامِ حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
آپ بڑے حلیم، سلیم، رحیم، کریم، متواضع، منکسر، صابر، متوکل اور با وقار تھے، زہد و مجاہدۂِ نفس میں مشغول رہتے تھے۔
آپ سرورِ عالمﷺ کے فرمان کے مطابق آخری خلیفۂِ راشد ہیں۔حضرتِ امامِ حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سر سے سینہ تک رسول اللہ ﷺ کے بہت زیاد مشابہ تھے، اور حضرتِ امامِ حُسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سینے سے پاوں تک بہت زیادہ مشابہ تھے۔۔۔
✅حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ:
*"سیّدہ فاطمۃ الزّھراء سلام اللہ علیہا اور امامِ حسنِ مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ سے کوئی بھی مشابہ نہ تھا۔"*
آپ نے پچیس حج پیدل کئے حالانکہ اعلیٰ نسل کے اونٹ اور گھوڑے دروازے پر موجود ہوتے تھے۔
آپ بہت سخی تھے، کئی مرتبہ اپنے گھر کاسارا سامان اللہ راہ میں تصدق کر دیا۔
یتیموں، مسکینوں، بیواؤں، اور ضرورت مندوں کی کفالت نصب العین تھا۔۔۔
✅حضرتِ عقبہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ: *"میں نے حضرت ابوبکر صدّیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے امامِ حسن کو اُٹھایا ہوا ہے۔ وھو یقول بابی شبیہ بالنّبی لیس شبیہ بعلی، وعلی یضحک۔"*
*ترجمہ:* آپ فرما رہے تھے کہ میرے ماں باپ قربان (اے حسن!) تم رسولِ خدا کے مشابہ ہو، اور علی کے مشابہ نہیں، اور یہ (سُن کر )حضرتِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہنس پڑے۔۔۔
*👇🏻حوالہ۔۔۔*
*_📚 (صحیح البخاری، فی مناقبِ حسن و حسین: 187)_*
✅ عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ارْقُبُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ۔
*ترجمہ:* حضرتِ عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ! سرورِ عالمﷺ کی خوشنودی آپ کے اہلِ بیت کی محبّت میں ہے۔۔۔(ایضاً)
✅حضرتِ سیّدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضراتِ حسنین کریمین کا بےحد احترام کرتے تھے،
ان کا وظیفہ تمام صحابہ کرام کے فرزندوں سے زیادہ مقرّر کیا تھا۔ بدری صحابہ کے فرزندوں کا وظیفہ دو ہزار تھا، مگر حسنین کریمین کا وظیفہ پانچ ہزار تھا۔۔۔
*👇🏻حوالہ۔۔۔*
*_📗( مناقبِ اہلِ بیت: 406)_*
✅ ایک مرتبہ سیّدۃ النّساء حضرتِ خاتونِ جنّت بیبی فاطمة الزّھراء سلام اللہ علیہا اپنے دونوں شہزادے حضراتِ حسنین کریمین کو سرورِ عالم ﷺ کے پاس لے کر آئیں، اور عرض کیا *یارسول اللہﷺ! میرے اِن دونوں بچّوں کو کچھ عطا فرمائیں۔* تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: *"اما الحسن فلہ ھیبتی و سوددی، و اما الحُسین فلہ جرأتی و جودی۔"*
یعنی حسن کو ہیبت اور سرداری عطا کی ہے، اور حسین کو شُجاعت اور فیّاضی عطا کی ہے۔۔۔
*👇🏻حوالہ۔۔۔*
*_📗( مناقبِ اہلِ بیت: 404)_*
✅ ذخائر العقبیٰ میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: *"من احبنی فلیحبہ، فلیبلغ الشاہد منکم الغائب۔۔۔"*
اور الصواعق المحرقہ میں رسول اللہ
ﷺ نے ارشاد فرمایا: *"من سرہ ان ینظر الیٰ سید شباب اہل الجنة، فلینظر الی الحسن۔۔۔"*
*حضرتِ امامِ حسن کی خلافت*
حضرتِ مولا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی شہادت کے بعد رمضان المبارک 40ھ میں مسلمانوں نے حضرتِ امامِ حسن کے دستِ حق پرست پر بیعت کی، جب یہ خبر امیرِ شام تک پہنچی تو انھوں نے لشکر کشی کا ارادہ اور ساٹھ ہزار افراد کا لشکر لے کر عراق فتح کرنے کے لئے نکلے، اور اِدھر حضرتِ سیّدنا امامِ حسن کو جب یہ خبر پہنچی کہ شام سے ایک لشکر آرہا ہے، تو آپ دفاع کے لئے ایک لشکر لے کر روانہ ہوئے، اور مقامِ مسقف، مدائن میں لشکر ٹھہر گیا، فوج نے یہ گُمان کر لیا تھا کہ آپ جنگ کا ارادہ نہیں رکھتے۔
جب آپ سے اِس امر میں تصدیق کی گئی تو آپ نے فرمایا کہ! *"مجھے مسلمانوں کا اتّحاد، اور ان کی خوشحالی، اور ان کی جان و اموال، اور ان کی آپس میں صُلح پسندی بہت محبوب ہے۔"* آپ کے ان ارشادات سے آپ کی فوج میں اختلاف ہو گیا۔
آپ بہت باوقار اور نہایت ہی بردبار شخصیت کے مالک تھے۔جذباتیت وانانیت نام کی کوئی چیز آپ کے پاس بھٹکی بھی نہ تھی۔
آپ نے معاویہ بن ابو سفیان سے صُلح کر لی اور خلافت سے دستبردار ہو گئے۔
ہزاروں مسلمانوں کی قیمتی جانیں بچالیں، اور اپنے نانا جان کے فرمانِ عالیشان کے مصدق ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: *"انّ ابنی ھٰذا سیّد ولعلّ اللہ ان یصلح بہٖ بین فئتین عظیمتین من المسلمین۔۔۔"*
*👇🏻حوالہ۔۔۔*
*_📚( صحیح البخاری، الرقم الحدیث-2704)_*
*ترجمہ:* "یہ میرا فرزند سردار ہے جس کے ذریعے اللہ تبارک و تعالیٰ عزّوجل مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے مابین صُلح کرا دے گا۔"
جب آپ خلافت سے دستبردار ہو گئے تو آپ کے بعض (جذباتی) ساتھی کہنے لگے۔ "یا عار المسلمین" آپ نے برجستہ جواب دیا! "العار خیر من النّار"۔ ان جُملوں میں آج امّتِ مسلمہ کے قائدین کے لئے بہت بڑا سبق ہے۔ اِقتدار کی جنگ میں لاکھوں مُسلمانوں کا خون ضائع ہو رہا ہے۔ عدمِ اتّفاق کی وجہ سے آج امّتِ مسلمہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ شاطِر دشمن اِنتشار کے ذریعے امّتِ مسلمہ کو تباہ و برباد کر رہا ہے، اور مُسلم حُکمران عیاشیوں میں مصروف ہیں۔
*کاش..!* یہ حُکمران حضرتِ سیّدنا امامِ حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرتِ مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے اتحاد و امن کے داعی بن جائیں، اور ہمیشہ کے لئے امر ہو جائیں۔۔۔
*✅ تاریخِ شہادت*
شہادت کے سنہ اور تاریخ میں بڑا اِختلاف ہے، صحیح قول کے مطابق 28/صفرالمظفر 49ھ. ہے، آپ کی شہادت زہر خورانی سے ہوئی، زہر کس نے دیا؟ تاریخ اِس بارے میں خاموش ہے، باقی سب قیاس آرائیاں اور روافض کی ملمع سازیاں ہیں۔
آپ کی قبرِ انور جنّت البقیع میں ہے۔۔۔
🤲🏻دُعا گو ہوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ عزّوجل ہم سبھی کو حضرتِ سیّدنا امامِ حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فیضان سے مالامال فرمائے، اور اہلِ بیتِ اطہار کی سچّی پکّی محبّتوں سے ہم سبھی کے قلوب کو منوّر و مجلّہ فرمائے۔۔۔🤲🏻
*🤲🏻آمین ثمّ آمین یاربّ العالمین• بجاہِ سیّدالانبیاء والمرسلین•🤲🏻*
🌹🍃🌷🌿🌹🍃🌷🌿🌹🍃🌷
Comments
Post a Comment